اپریل 26, 2026

ایران کا امریکہ کے ‘حد سے زیادہ مطالبات’ ماننے سے انکار؛ پاکستان کے ذریعے پیغامات کی ترسیل

ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے سخت مطالبات کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوں میں امریکہ کے مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کے لیے ان کا مؤقف اصولی اور غیر لچکدار ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد میں موجود ایرانی سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایران کسی بھی صورت امریکہ کے غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات (Excessive Demands) قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکی نمائندوں سے براہِ راست مذاکرات نہیں کریں گے، بلکہ اپنا مؤقف اور پیغامات پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائیں گے۔ اس صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب، واشنگٹن سے اہم خبر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی نمائندوں، وٹکوف اور کشنر کا دورہ پاکستان اچانک منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات شدید تعطل کا شکار ہیں۔ ایران نے جواباً آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند کر رکھا ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس سے عالمی منڈی میں بھی تناؤ پایا جاتا ہے۔