پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید اور سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے پاک-امریکہ-ایران سفارت کاری کے حوالے سے بڑی پیش گوئی کرتے ہوئے ایران امریکہ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے نتیجہ خیز ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے انکشاف کیا کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نائب صدر جے ڈی وینس کو معاہدے پر دستخط کا اختیار دینے کے بجائے خود اسلام آباد تشریف لائیں گے، جبکہ اسی کامیابی کی صورت میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی پاکستان آمد بھی متوقع ہے۔ سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بھی مذاکرات کے اس دور کو انتہائی اہم اور فیصلہ کن قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مستقبل کی بات چیت کے لیے پاکستان کو اپنا پسندیدہ مقام قرار دیتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ امریکی اخبار ‘نیویارک پوسٹ’ سے گفتگو میں ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اگلے دو روز میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے اور وہ مذاکرات کے لیے پاکستان جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔




