اکتوبر 31, 2026

روس کا بڑا فیصلہ، یکم اپریل سے پیٹرول برآمدات پر پابندی، عالمی مارکیٹ میں ہلچل

روس نے یکم اپریل سے دنیا کو پیٹرول کی فراہمی پر عارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں ایک بار پھر بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ پابندی ابتدائی طور پر 31 جولائی 2026 تک جاری رہنے کی توقع ہے اور اس کا اثر ان ممالک پر پڑ سکتا ہے جو روسی ریفائنڈ پیٹرول پر انحصار کرتے ہیں، جن میں چین، ترکی، برازیل اور افریقہ کے کئی ممالک شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر ولادیمیر پیوٹن کی حکومت نے اپنے بفر اسٹاک کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک کے اندر پیٹرول کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے اور عوام و صنعتوں کو ریلیف دیا جا سکے۔

واضح رہے کہ روس دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، تاہم اس پابندی کا اطلاق یوریشین اکنامک یونین کے رکن ممالک اور خصوصی معاہدوں والے ممالک پر نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک کے مطابق یہ اقدام گھریلو ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، کیونکہ کھیتی باڑی کے موسم اور ریفائنریز کی مرمت کے دوران ملک میں پیٹرول کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔