تحریر: محمدانوربھٹی
بندن میاں آج حسبِ عادت فیس بک کی گلیوں میں مٹر گشت کر رہے تھے کہ اچانک ایک ایسی پوسٹ سامنے آئی جسے دیکھ کر بندن میاں نے چائے کا کپ میز پر رکھا، چشمہ سیدھا کیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر وہی پرانا فقرہ بولا جس میں صدیوں کی حکمت چھپی ہے۔سائیں، جہالت اگر زبان پکڑ لے تو دلیل دروازے سے بھاگ جاتی ہے۔ پوسٹ میں کچھ خود ساختہ تجارتی ماہرین بڑے اترا کر لکھ رہے تھے کہ افغانستان کو پاکستان کے بند ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، افغانستان کے پاس کئی متبادل راستے ہیں، وہ چاہے تو ایران سے تجارت کرے، چاہے تو وسط ایشیا سے کر لے، اسے پاکستان کی ضرورت نہیں۔ بندن میاں نے ایک نظر پوسٹ پر ڈالی اور دوسری نظر ان لکھاریوں کی پروفائل تصویروں پر، پھر زیرِ لب ہنس کر بولے سائیں بات کرنے سے پہلے کبھی کبھی دنیا کا نقشہ بھی دیکھ لیا کرو جغرافیہ واٹس ایپ گروپ نہیں، حقیقت ہے۔
بندن میاں نے چائے کا دوسرا گھونٹ بھرا اور سوچا کہ آج ایک ہی سانس میں ان سب دانشوروں کی غلط فہمیاں دور کر دینی چاہئیں۔ کیونکہ اب یہ بات پھیلتی جا رہی ہے کہ افغانستان کو پاکستان پر انحصار نہیں، پاکستان کی بندرگاہیں افغانستان کے لیے ضروری نہیں، تجارت جہاں سے بھی ہو سکتی ہے، راستے بہت ہیں، پاکستان کوئی واحد چوائس نہیں۔ بندن میاں نے گہری سانس لی اور سوچا کہ اگر آج بھی کسی کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ افغانستان کی معاشی شہ رگ کراچی سے جڑی ہوئی ہے، تو پھر یہ صرف لاعلمی نہیں بلکہ ضد کی وہ عجیب و غریب قسم ہے جس میں دلیل بھی گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔
افغانستان خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے۔ یعنی اس کے پاس سمندر کا راستہ نہیں، بندرگاہ نہیں، کوئی بحری راستہ نہیں، کوئی ساحلی شہر نہیں جہاں سے جہاز چلیں یا دنیا بھر کی تجارت آئے جائے۔ یہ ایک ایسی بنیادی حقیقت ہے جسے بدلنے کے لیے شاید افغانستان کو نئی دنیا چاہیے، نئی جغرافیائی ترتیب چاہیے، مگر افسوس کہ نقشہ فیس بک کے کمنٹس سے نہیں بدلا کرتا۔ بندن میاں نے بڑے سکون سے سمجھانا شروع کیا کہ پاکستان کے راستے سے افغانستان کی تجارت صرف آسان نہیں، ناگزیر ہے۔ پاکستان کی بندرگاہیں دہائیوں سے افغانستان کی معاشی شہ رگ بنی ہوئی ہیں۔ کراچی اور بن قاسم سے نہ صرف افغانستان اپنی بنیادی ضروریات منگواتا ہے بلکہ وہاں سے اس کی برآمدات دنیا تک پہنچتی ہیں۔ افغانستان کے تاجر، اس کے پھل، خشک میوہ، قالین، معدنیات، سب اسی راستے سے بیرونی منڈیوں تک پہنچتے رہے ہیں۔
بندن میاں نے بتایا کہ اگر ایک راستہ دہائیوں تک استعمال ہو، انفراسٹرکچر تیار ہو، بین الاقوامی روٹس مستحکم ہوں، تو وہ اتنی آسانی سے بدل نہیں جاتا۔ مگر یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں شاید لگتا ہے کہ تجارت بھی موبائل سم کی طرح ہوتی ہے کہ ضرورت پڑی تو فوری کمپنی بدل لی، سگنل نہ آئے تو ہاتھ لپیٹ لیا، نئے پیکج پر چل پڑے۔ بندن میاں نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ سائیں، ٹرانزٹ ٹریڈ کوئی سم کارڈ نہیں کہ ایک سستی ہو تو دوسری لے لو۔ یہ جغرافیہ سیاست، سڑکوں، راستوں، ریاستوں، فاصلوں، اخراجات اور وقت کا کھیل ہے۔
پھر بندن میاں نے وہ بنیادی حقیقت رکھی جو شاید بہتوں کے لیے علم کا پہاڑ ثابت ہو۔ افغانستان کی 70 فیصد سے زائد تجارت ہمیشہ پاکستان کے راستے ہوئی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ کابل سے کراچی تک کا فاصلہ صرف 1500 کلومیٹر ہے۔ ٹرانزٹ وقت چار سے چھ دن کا ہے۔ ایک کنٹینر کی لاگت 2500 سے 3000 ڈالر میں پڑتی ہے۔ سڑکیں تیار، راستہ آزمودہ، سیکیورٹی منظم، پورٹ کلیئرنس نسبتاً تیز، اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ راستہ۔ بندن میاں نے کہا کہ سائیں، اگر کسی تجویز یا متبادل راستے نے پاکستان کے راستے کا مقابلہ کرنا ہے، تو اسے اس معیار تک پہنچنا ہوگا۔ خالی سوشل میڈیا پر زبانی تیر چلانے سے کوئی راستہ متبادل نہیں ہو جاتا۔
بندن میاں نے پھر ایران کے راستے کا نقشہ ذہن میں بچھایا اور بڑے سکون سے کہا کہ اچھا چلیں، ان لوگوں کو متبادل راستہ بھی سمجھا دیتے ہیں۔ افغانستان چاہ بہار جانا چاہتا ہے تو فاصلہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ کابل سے چاہ بہار تک تقریباً 2600 کلومیٹر ہیں۔ ٹرانزٹ وقت چودہ دن تک جاتا ہے۔ کنٹینر کی لاگت سات ہزار ڈالر ہو جاتی ہے۔ یعنی پاکستان کے مقابلے میں ڈبل نہیں بلکہ تقریباً ڈھائی گنا خرچ۔ اوپر سے ایران کے داخلی ٹیکس، سست کلیئرنس، خراب سڑکیں، اور جگہ جگہ وہ مسائل جن پر پردہ ڈالنے کے لیے بہت بہانے چاہیے۔ بندن میاں نے ہنستے ہوئے کہا کہ متبادل راستہ وہ ہوتا ہے جو فائدہ دے، مشکل کم کرے، وقت بچائے، خرچہ کم کرے۔ یہاں تو سب کچھ الٹا ہے۔ یہ متبادل نہیں، مجبوری ہے۔ وہ بھی ایسی مجبوری جس میں بندہ چلتے ہوئے بھی بددعائیں دیتا جاتا ہے۔
پھر بندن میاں نے وسط ایشیا کے راستے پر بات چھیڑی۔ نقشے میں یہ راستہ خوبصورت لگتا ہے، سیدھی لکیر سے گزرتے ہوئے لمبے ہائی ویز، ریل کا نیٹ ورک، سب اچھا لگتا ہے۔ مگر حقیقت؟ حقیقت یہ ہے کہ 3000 کلومیٹر سے زائد کا سفر، نو ہزار ڈالر سے زائد لاگت، مختلف ممالک کی بارڈر کلیئرنس، ریل اور روڈ کا ملاپ، ایک ملک سے دوسرے ملک کے قوانین، سیاسی مسائل، موسم کی سختیاں، برف باری، راستے بند، لاجسٹکس کا چکر الگ۔ بندن میاں نے پورا زور دے کر کہا کہ نقشی راستے متبادل ہوتے ہیں، زمینی حقیقت نہیں۔ جو لوگ نقشے دیکھ کر دنیا چلاتے ہیں وہ اکثر حقیقت کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔
بندن میاں نے افغانستان کی حاضر صورتِ حال بھی سامنے رکھی۔ یہ حقیقت ہے کہ دو ماہ سے پاکستان کا ٹرانزٹ تقریباً معطل ہے۔ اس کا براہِ راست اثر افغان تاجروں پر پڑا ہے۔ اس کا اثر عام افغان شہری پر بھی پڑا ہے۔ آج افغان پھل اور خشک میوہ بارڈر پر سڑ رہے ہیں۔ قالین برآمد نہیں ہو رہے۔ تجارتی کنٹینرز سرحدوں پر کھڑے ہیں۔ تاجروں کا سرمایہ پھنسا ہوا ہے۔ بنیادی اشیائے ضرورت کی کمی بڑھ رہی ہے۔ ایندھن مہنگا ہو رہا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء تک مہنگائی پہنچ چکی ہے۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگ بڑے اعتماد سے کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کو فرق نہیں پڑتا۔ بندن میاں نے بڑے افسوس سے کہا کہ سائیں یہ وہی بات ہے جیسے کسی آدمی سے اس کا آکسیجن سلنڈر لے کر کہا جائے کہ تمہیں سانس لینے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
بندن میاں نے پھر تاریخ کی طرف اشارہ کیا۔ افغانستان کی تجارت ہمیشہ پاکستان کے راستے رہی ہے۔ یہ کوئی سیاسی ہمدردی نہیں تھی یہ جغرافیائی حقیقت تھی ہے، اور رہتی ہے۔ جب کابل سے کراچی کم ترین راستہ ہے، جب دنیا تک پہنچنے کا سب سے سستا اور محفوظ راستہ یہی ہے، تو خواہ افغانستان دس ملکوں سے دوستی کر لے، راستہ وہیں سے ملے گا جہاں فاصلہ کم ہو، خرچہ کم ہو، اور تجارت کا دھارا آسان ہو۔ بندن میاں نے کہا کہ سائیں، تجارت جذبات سے نہیں چلتی، حساب کتاب سے چلتی ہے۔ اور حساب کتاب بتاتا ہے کہ افغانستان کے پاس پاکستان کے سوا کوئی مناسب راستہ ہے ہی نہیں۔
اب بندن میاں نے ذرا سخت لہجہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کی طرف انگلیاں اٹھاتا ہے تو وہ یہ بھول جاتا ہے کہ بھارت سے افغانستان کا زمینی رابطہ ہے ہی نہیں۔ وہاں سے تجارت صرف خواب میں ہو سکتی ہے، زمین پر نہیں۔ بھارت جتنا مرضی پیسہ لگائے، چاہ بہار میں سرمایہ کاری کرے، نقشے پر لائنیں کھینچے، حقیقت یہی ہے کہ راستہ پاکستان سے ملتا ہے، بھارت سے نہیں۔ بندن میاں نے کہا کہ سائیں، وہ لوگ جو پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو نظر انداز کر کے بھارت کے سہانے خواب دیکھ رہے ہیں، وہ دراصل خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ افغانستان کی تجارت پاکستان کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہ حقیقت ہے، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔
آخر میں بندن میاں نے وقت کی ساری تلخیاں سمیٹ کر وہی ایک جملہ کہا جو اس سارے معاملے کا نچوڑ ہے جو جاہل کہتے ہیں کہ افغانستان کے پاس متبادل راستے ہیں اور اسے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کی عقل پر بندن میاں کی طرف سے ایک زوردار تھو۔ کیونکہ وہ نہ جغرافیہ جانتے ہیں، نہ تجارت، نہ معیشت، نہ تاریخ۔ وہ صرف سوشل میڈیا کے شور میں جملے اچھال رہے ہیں، حقیقت سے کوسوں دور۔ افغانستان کو فرق پڑتا ہے، بہت فرق پڑتا ہے، اور یہی فرق دنیا سمجھتی ہے مگر کچھ لوگ اپنی انا کی پٹی باندھ کر بیٹھے ہیں۔ بندن میاں نے چائے کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے کہا کہ حقیقت سمندر کے کنارے لکھی لکیر نہیں ہوتی کہ ہر لہر اسے مٹا دے۔ حقیقت پتھر پر لکھی تحریر ہوتی ہے۔ اور اس پتھر پر لکھا ہے کہ افغانستان کی تجارت کا سب سے سستا، مختصر، محفوظ، آزمودہ اور مؤثر راستہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔ باقی سب قصے کہانیاں ہیں اور جو ان کہانیوں پر یقین کر لیں ان کی عقل اسی کہانی کے پیچھے کہیں گم ہو جاتی ہے۔





