حکومت نے جعلی دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک جانے والوں اور ایجنٹ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں پروٹیکٹر کے اجرا کے نظام کو فول پروف بنانے، مسافروں کی سہولت کے لیے امیگریشن سسٹم میں اصلاحات، اور جعلی ویزوں کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ وزرا نے متعلقہ اداروں سے 7 روز میں حتمی سفارشات بھی طلب کر لی ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس میں کہا کہ غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے AI بیسڈ ایپ کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے، جو یہ معلوم کرنے میں مدد دے گا کہ کون شخص سفر کے قابل ہے اور کون نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جعلی ویزوں اور ایجنٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
محسن نقوی نے اعلان کیا کہ ڈی پورٹ شدہ افراد کے پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد انہیں دوبارہ ویزا نہ ملنے کو یقینی بنایا جائے گا، جب کہ یکساں انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس نیشنل پولیس بیورو سے جاری کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ غلط طریقوں سے بیرون ملک جانے والے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں، امیگریشن ریفارمز کا مقصد نہ صرف عوام کو سہولت دینا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر بنانا بھی ہے۔
وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے کہا کہ بیرون ملک لیبر ویزے پر جانے والے افراد کے پاس مستند اور مکمل دستاویزات کا ہونا ضروری ہے، اور پروٹیکٹر و امیگریشن نظام میں بہتری کے لیے وزارت ہر ممکن تعاون کرے گی۔





