جون 3, 2026

صحت مند مٹی، صحت مند شہر

تحریر: مزمل حسین

ہر سال 5 دسمبر کو دنیا بھر میں مٹی کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اور اس سال کا عالمی موضوع ہے:
“صحت مند مٹی، صحت مند شہر”۔
یہ پیغام نہ صرف کسانوں کے لیے بلکہ ہر شہری کے لیے بیداری کی ایک گھنٹی ہے۔ ہم عام طور پر مٹی کو صرف دیہی زندگی یا زراعت سے جوڑتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ مٹی شہروں کی زندگی کا بھی بنیادی جزو ہے۔ یہ ہماری خوراک، ہوا، پانی، اور ماحولیات کی صحت سے براہِ راست تعلق رکھتی ہے۔پاکستان کے بڑے شہروں جیسے لاہور، فیصل آباد، کراچی اور راولپنڈی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، غیر منصوبہ بند تعمیرات، اور آلودگی نے زمین کی صحت کو خطرناک حد تک متاثر کیا ہے۔ مٹی جو کبھی زرخیز تھی، اب بھاری دھاتوں، پلاسٹک کے ذرات اور کیمیکل فضلے سے آلودہ ہو چکی ہے۔دنیا بھر میں تقریباً 33 فیصد زمین کی مٹی کسی نہ کسی درجے میں زوال کا شکار ہے، اور اگر یہ رجحان جاری رہا تو 2050 تک شہروں میں زرعی سرگرمیوں کے لیے موزوں زمین 20 فیصد تک کم ہو جائے گی۔پاکستان میں بھی شہری علاقوں کے قریب واقع زرعی زمینوں کی 40 فیصد مٹی میں نامیاتی مادہ خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے۔ نتیجتاً فصلوں کی پیداوار میں کمی، آلودہ پانی، اور غیر صحت مند خوراک جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔صحت مند مٹی صرف پودوں کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ جب مٹی میں حیاتیاتی تنوع برقرار رہتا ہے تو وہ آلودگی جذب کرتی ہے، پانی کو صاف کرتی ہے، اور ہوا کے معیار کو بہتر بناتی ہے۔ دوسری طرف جب مٹی بنجر یا آلودہ ہو جاتی ہے تو وہ نہ صرف خوراک کی کوالٹی کو متاثر کرتی ہے بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور شہری درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہے۔اس وقت ضرورت ہے کہ ہم شہری زراعت اور گرین انفرانسٹرکچر کو فروغ دیں۔ چھتوں پر باغات، کمیونٹی فارمز، اور پودوں سے بھرے گرین بیلٹس نہ صرف فضا کو صاف کرتے ہیں بلکہ مٹی کو بھی صحت مند بناتے ہیں۔ حکومتِ پنجاب نے 2025 میں “گرین پنجاب پروگرام” کے تحت شہری علاقوں میں اربن ایگریکلچر زونز کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم صحت مند شہروں کی جانب ایک مثبت آغاز ہے۔عوامی سطح پر بھی ہمیں اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ گھروں سے نکلنے والا کچرا، پلاسٹک کا استعمال، اور فالتو کیمیکلز کا بہاؤ سب مٹی کے زوال میں حصہ ڈالتے ہیں۔ اگر ہم ری سائیکلنگ، پودے لگانے، اور نامیاتی کھاد کے استعمال کو معمول بنائیں تو نہ صرف زمین بلکہ ہماری سانسیں بھی محفوظ رہ سکتی ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی ماہرین کے مطابق۔
یہ سادہ مگر گہرا پیغام ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی صحت، مٹی کی صحت سے جڑی ہوئی ہے۔
وقت آگیا ہے کہ ہم مٹی کو صرف زمین نہیں بلکہ زندگی سمجھیں۔ اگر ہم آج اپنی مٹی کو صحت مند بنائیں تو آنے والی نسلیں صاف فضا، محفوظ خوراک، اور پائیدار شہروں میں زندگی گزار سکیں گی۔
زمین صرف ہماری ملکیت نہیں، یہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔