اکتوبر 30, 2026

رانا ثنا اللہ کا اعلان: 27 ویں کے بعد 28 ویں آئینی ترمیم بھی آرہی ہے

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد اب 28 ویں ترمیم بھی لائی جارہی ہے، جو تعلیم، آبادی، نصاب اور لوکل باڈیز کے امور سے متعلق ہوگی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کے دوران حکومت کے پاس تین سینیٹرز ریزرو میں تھے۔ ان کے مطابق سینیٹ میں حکومت کے پاس 67 یا 68 ووٹ تھے، تاہم سینیٹر عرفان صدیقی علالت کے باعث ووٹ کاسٹ نہ کرسکے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن آئینی ترمیم کے کسی حصے یا شق پر اعتراض نہیں کرسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں پہلے ہی صدارتی آفس کو استثنیٰ حاصل تھا، تاہم اگر صدر کسی عوامی عہدے پر فائز ہوں گے تو انہیں استثنیٰ حاصل نہیں رہے گا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے خلاف اپیل دائر کی جاسکتی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جائے یا آئینی عدالت میں۔ ان کے مطابق اگر معاملہ آئینی عدالت میں گیا تو فیصلہ پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے ووٹوں پر منظور کی جانے والی ترمیم پائیدار نہیں ہوگی۔ اگر حکومت نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ووٹ حاصل کیے ہیں تو ایسی ترمیم کی بنیاد ہی متنازع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی آئین میں یہ اصول نہیں کہ کسی کو صرف اس لیے کارروائی سے استثنیٰ دے دیا جائے کہ وہ کبھی صدر رہ چکا ہے۔