ستمبر 13, 2026

فرزند لیاقت علی قادری۔۔۔۔۔۔ رضوان لیاقت قادری


عزیز تر مجھے رکھتا تھا رگِ جاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا ماں سے
رضوان لیاقت قادری فرزند لیاقت علی قادری نے جب سے ہوش سنبھالا والد صاحب کو مختلف محاذ پر سرگرم دیکھا ایک دن ملک کے ایک کونے میں دوسرے دن دوسرے کونے میں سفر کرتے دیکھا، کہتے تھے زندگی آسان نہیں زندگی خاردار راستوں پہ چلنے کا نام ہے گھر میں سیاسی سماجی دینی اور بیوروکریٹس شخصیات کا تانتا بندھا رہتا،والد مرحوم جتنے اچھے سوشلسٹ تھے اُتنے ہی اچھے نہایت شفیق اور خیال کرنے والے انسان بھی تھے پورے خاندان کے لئے ڈھال کا کام کرنے والے انتہائی ملنسار اور ہردلعزیز شخصیت تھے۔ ہم اکثر گلہ کرتے کہ آپ فیملی کو وقت دیا کریں تو کہتے کہ یہ زندگی کا دستور ہے اگر آپ کسی کے کام آئیں گے تو اِس سے اللہ پاک کی ذات راضی ہوتی ہے والد صاحب کے جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مرشد ٹھیک کہتے تھے انسان کا کردار اُس کے وقار کی ضمانت ہوتا ہے جس دن سے والد محترم کا انتقال ہوا ہے لوگوں کی اُن سے والہانہ محبت اجاگر ہوئی امریکہ یورپ ایشیائی ممالک میں محافل کا اہتمام کیا گیا اُن کی مغفرت کے لئے جگہ جگہ سے تعزیتی ریفرنس کا انعقادکا سلسلہء جاری و ساری ہے، والد محترم کی طرزِ زندگی کو مشعلِ راہ سمجھتا ہوں،ہمارے لئے وہ سب کچھ کر گئے جو ایک باپ اپنے محدود وسائل میں اپنی اولاد کیلئے کر سکتا ہے،خاندان میں وہ اپنی مثال آپ تھے جب دادا جان کا وصال ہوا تو بھائیوں بہنوں کیلئے باپ بن گئے، والدہ اکثر بیمار رہتی ہیں۔ اُس وقت میں ہمارے لئے ماں کا کردار نبھاتے ہم بھائی بہنوں میں یکساں شفقت کا برتاؤ کیا ہمیں بری صحبت سے دور رہنے کی تلقین کی،اس فرشتہ صفت کے بارے میں کیا بتاؤں اُن کے اعلیٰ ظرف ہونے کی یہ ہی دلیل کافی ہے کہ پوری دنیا میں جہاں جہاں اُن کے چاہنے والے تھے اُن تمام احباب نے جگہ جگہ اُن کی دعائے مغفرت کیلئے اہتمام کیے اور ذکرِسرور کائنات حضرت محمد ﷺ کی محافل سجائیں میں اُن تمام لوگوں کا مشکور و ممنون ہوں جنہوں نے اِس مشکل کی گھڑی میں ھماری ڈھارس بندھائی اور ہماری حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ والد محترم کی دینی سیاسی اور سماجی زندگی پر روشنی ڈالی، وفات کے بعد بہت سے رازوں سے پردہ اُٹھا اور ہمیں اُن کے فلاحی کاموں کو جاننے کا موقع ملا مثلاً کوئی کہتا کہ قادری صاحب یتیم بیواؤں کی کفالت کرتے تھے، کوئی آکر کہتا کے قادری صاحب کی بدولت آج میری بیٹی ڈاکٹری کے فرائض انجام دے رہی ہے،کوئی کہتا کے ہماری زمینوں پر ناجائز قبضہ تھا قادری صاحب نے ہماری معاونت کی لاتعداد ایسے افراد سے میرا پہلی مرتبہ سامنا ہوا جن کو کھبی نہ دیکھا نہ ملا،،
وہ لوگ آکر کچھ نا کچھ واقعہ سناتے خاندان والوں کے لئے والد گرامی ایک معمہ تھے؟جو آخری دن تک حل نا ہوا کسی کو اُن کے کسی بھی کام کی خبر تک نہ تھی یہ سارے عقدے اُن کے جانے کے بعد کھلے میرے لئے تو اِس سے بڑی اور سعادت کی بات ہو ہی نہیں سکتی کہ میرے والد صاحب نے قادیانی خاندانوں کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں سجدہ ریز کرایا، والد صاحب کو تحصیل کھاریاں کی تعمیر و ترقی کیلئے دن رات محنت کرتے دیکھا وہ کھاریاں سے بہت پیارکرتے تھے کہتے تھے کھاریاں کے مسائل میرے گھر کے مسائل ہیں۔
حضرتِ سُلطان العارفین دامت برکاتہ عالی سے عشق تھا جناب فیاض الحسن قادری دامت برکاتہ عالی کے مرید تھے، جب درودو سلام پڑھتے تو آنکھوں سے چشمے پھوٹنے لگتے
جب ہدیہ نعت شریف پیش کرتے تو رقت طاری ہوجاتی،بہت سے شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ رہے لیکن ہمیشہ اولاد کو حلال رزق کھلایا برائی سے دور رہنے کی تلقین کرتے شفیق باپ کا کردار نبھایا۔ اُن تمام لوگوں کا بے حد مشکور و ممنون ہوں جنہوں نے پاکستان بھر سے نماز جنازہ، ختم قُل میں شر کت کی اور ابھی تک فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے،
اور جنہوں نے اِس مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہمیں اپنے گھر کے افراد سمجھ کر ہماری ہر ممکن معاونت کی، اس کے علاوہ فریندز آف کھاریاں کے ہر ممبر نے اپنا اپنا کردار محبت اور خلوص سے ادا کیا جو انہوں مجھے اپنی محبتوں کا مقرض کر دیا، اس کے علاوہ کھاریاں پریس کلب کا کردار بھی مثالی رہا اور پریس کلب کے تمام ممبران نے بھر پور تعاون کیا اور ہر قدم پر شانہ بشانہ رہے، میں ان کی محبتوں کو ہمیشہ یاد رکھو گا،اورکھاریاں شہر کی تمام صحافی برادری کے علاوہ ضلع بھر کی صحافی برادری نے ہمدری کا اظہارکیا، سرگو دھا،فیصل آباد،پشاور،اسلام آباد،چنیوٹ کراچی،سیالکوٹ،ملتان،گو جرانوالہ،لاہور،کو ٹٹہ،مری،سے صحافی برادری نے اظہار افسوس کیا،محکمہ پولیس اوکاڑہ،ملتان،لاہور،سیالکوٹ،اسلام آباد، گو جرانوالہ،فیصل آباد گجرات،پشاور،سے پولیس کے اعلی آفیسران نے بھی دکھ کا اظہار کیاصوبہ بھر سے پنجاب پولیس کے آفیسران نے رابطہ کیا اور فاتحہ خوانی کیلئے گھر آئے،ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے میرا ساتھ اسی طرح تعلق رکھنے کا اظہارجیسے والد صاحب کے ساتھ تھے، میرے پاس شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں، لیکن میں ان سب کی محبتوں کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے ان تمام افراد کیلئے دعا گو ہوں جنہوں نے اس غم و دکھ میں میرا ساتھ دیا،
والد صاحب کے جانے کا صدمہ تو بہت ہے ہم سب خاندان والے غم سے نڈھال ضرور ہیں لیکن حکمتِ خداوندی کو بھی سمجھتے ہیں یتیمی کا دُکھ تو بہت ہے لیکن رضائے الٰہی کو تسلیم کرنا بھی لازم ہے۔ الحمدللہ والد صاحب میں وہ تمام خوبیاں پائی جاتی تھیں جو ایک انسان کو انسانیت کی طرف لے جاتی ہیں آخر میں یہ ہی کہوں گا ہم خدا کی رضا میں راضی ہیں بے شک ہم اُس کی طرف سے آئے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ جانا ہے،میری دعا ہے اللہ پاک والد صاحب کی اگلی منزلیں آسان فرمائے اور حضور سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ اور اُن کی آل کے صدقے ہم سب کو ہدایت کا راستہ نصیب فرمائے آمین ثمہ آمین
راقم ایک بار پھر اُن تمام افراد کا بے حد مشکور و ممنون ہوں، جن کا ذکر نہیں کر پا یا اُن کا بھی، جنہوں نے اِس مشکل وقت میں ہمارا خیال رکھا رب کریم سب پر اپنی خاص رحمتوں کا نزول فرمائے۔ انور مقصود صاحب کا ایک خوبصورت شعر والد صاحب کے نام۔

خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپرد خاک کیا!!!!!”