گجرات (پ۔ر)جامعہ گجرات کے مرکز برائے السنہ و علوم ترجمہCeLTS کی UoGٹرانسلیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک علمی سیمینار”قومی و عالمی تناظر میں ترجمہ نگاری“ کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا۔ سیمینار کے مہمان خصوصی ممتاز ماہر لسانیات،استاد و دانشور ڈاکٹر صاحبزادہ احمد ندیم تھے۔ صدارت HoD ڈاکٹر کنول زہرانے کی۔ مہمان اعزاز ڈائریکٹر میڈیا شیخ عبدالرشید تھے۔ میزبانی کوارڈینیٹر سوسائٹی ڈاکٹرمحمد جاوید اقبال نے کی۔سیمینار کا مقصد طلبہ میں ذوق ترجمہ و علوم ترجمہ کے فروغ کو تحریک دیتے ہوئے ان کی ذہنی و فکری تربیت تھا۔ڈاکٹر صاحبزادہ احمد ندیم نے کہا کہ ترجمہ کے عمل کی تقویت و ترقی قومی ترقی کی روشن راہ ہے۔ترجمہ قوموں کی برادری میں ممتاز ہونے کا وسیلہ ہے۔ترجمہ کے عمل کو فروغ دیتے ہوئے مقامی زبانوں میں سائنسی و علمی علوم کا احیا ممکن ہے۔دور جدید کے چیلنجوں اور علمی تقاضوں کا مقابلہ کرنے کی لیے وسیع پیمانہ پر تراجم وقت کی ضرورت بن چکے ہیں۔ترجمہ ایک تخلیقی عمل ہے اور مترجم دو مختلف زبانوں کی ثقافت، مطالب اور مفاہیم کو واضح کرتے ہوئے تخلیق کار کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ترجمہ ایک لسانی صورتحال کا نام ہے۔انگریزی زبان نے اپنا افتخار و اعزاز وسیع پیمانہ پر تراجم کے ذریعے حاصل کیا۔آج دنیا بھر میں انگریزی زبان رابطہ کی واحد زبان بن چکی ہے۔دور حاضر میں ترجمہ ادب و زندگی کے لوازمات میں شامل ہو چکا ہے۔جامعات کا اولین فریضہ ہے کہ وہ علمی سطح پر ترجمہ کے عمل و علوم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ کو ترجمہ نگاری کی تحریک دیں۔ ڈاکٹر صاحبزادہ احمد ندیم نے ترجمہ نگاری کو کسی بھی علمی زبان کی لائف لائن قرار دیتے ہوئے دنیا کی مختلف زبانوں،تہذیبوں، ثقافتوں اور تمدنوں میں تراجم کی تاریخی سرگذشت کو دلچسپ انداز میں بیان کیا۔ شیخ عبدالرشید نے کہا کہ ترجمہ علمی نمود میں اضافہ کا باعث بنتے ہوئے نسل نو کی فکری ترقی کا کامیاب محرک ہے۔وسیع مطالعہ کامیاب ترجمہ نگاری کی دہلیز ہے۔دور حاضر میں ترجمہ نگاری کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔جامعہ گجرات کا مرکز برائے السنہ و علوم ترجمہ علمی دنیا میں ممتاز حیثیت کا حامل بن چکا ہے۔ترجمہ کائنات کے متنوع مناظر سے روشناس کرواتے ہوئے ایک نئے جہان معنی کی تشکیل کرتا ہے۔ ڈاکٹر کنول زہرا نے کہا کہ گلوبل تناظر میں ترجمہ نگاری اور علوم ترجمہ بطور ڈسپلن انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ترجمہ فہم و فکر اور سوچ و فراست کے نئے در وا کرتے ہوئے قومی علمی ترقی کا ضامن ہے۔ڈاکٹرمحمد جاوید اقبال نے کہا کہ نوجوان طلبہ میں ترجمہ نگاری کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ایک علمی خدمت ہے۔ جامعہ گجرات نے مرکز برائے السنہ و علوم ترجمہ قائم کرنے میں پہل کرتے ہوئے ایک عظیم قومی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ترجمہ نگاری بین الاقوامی سطح پر قوم و ملک کی بہترین نمائندگی کرتی ہے۔طلبہ نے فکر انگیز سوالات کے ذریعے ترجمہ اور اس سے وابستہ علوم کے ضمن میں راہنمائی حاصل کی۔





