لکشمی چوک لاہور میں پی ٹی آئی کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب کی جعلی حکومت اور پنجاب پولیس نے انہیں اغوا کیا اور بعد میں سڑک پر پھینک دیا۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ مخالفین انہیں ورغلائیں گے لیکن انہیں پُرامن رہنا ہے اور انتشار نہیں پھیلانا۔ اس سے قبل سہیل آفریدی مال روڈ ریگل چوک پر پولیس کی پریزن وین پر چڑھ گئے اور شرط عائد کی کہ پہلے ان کے گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے تب وہ آگے بڑھیں گے۔ تاہم ان کے وین سے نہ اترنے پر پولیس اہلکار پریزن وین کو ہی وہاں سے لے کر چلے گئے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ منتخب وزیراعلیٰ کو ویرانے میں چھوڑ کر ان کی تذلیل کی گئی جو کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خود وین میں بیٹھ کر کیمرہ مین اور گارڈز کے ساتھ ویڈیو بنوارہے ہیں اور اغوا ہوگئے،توبہ شرم کرو،ہوش کرو https://t.co/V56JFx8PpZ
— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) September 14, 2026
دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے محض ایک سیاسی ڈرامے بازی قرار دیا ہے۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی خود جا کر پولیس وین میں بیٹھے جبکہ پولیس والے انہیں مسلسل اترنے کا کہتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی نے اپنے اس ڈرامے کا منظر خراب ہونے پر اپنے ہی گارڈ کو جھاڑ کر ایک طرف کر دیا تھا۔ دونوں صوبائی حکومتوں کے رہنماؤں کے ان متضاد دعووں اور الزامات کے بعد لاہور میں سیاسی درجہ حرارت انتہائی شدید ہو گیا ہے۔





