اپریل 20, 2026

یونیورسٹی کے سب کیمپس پنڈ دادن خان کا قیام محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی تعلیم سے عدم دلچسپی کی بنیاد پر تا حال ممکن نہ ہو سکا

جہلم(چوہدری عابد محمود)جہلم 2005 میں منظور ہونے والے ٹیکسلا یونیورسٹی کے سب کیمپس پنڈ دادن خان کا قیام محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی تعلیم سے عدم دلچسپی کی بنیاد پر تا حال ممکن نہ ہو سکا،مرزا آصف عباس ایڈوکیٹ سپریم کورٹ چوہدری حنان حیدر کھوتھی۔تفصیلات کے مطابق 2005 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے حکومت پنجاب کی طرف سے ضلع چکوال میں بلکسر اور ضلع جہلم میں پنڈ دادن خان میں ٹیکسلا یونیورسٹی کے سب کیمپس کے قیام کی منظوری دی تھی حکومت پنجاب کی طرف سے ضلع چکوال میں بلکسر اور ضلع جہلم میں پنڈدادن خان کے مقام پر ان کیمپس کے قیام کے لیے زمینیں مارکیٹ ریٹ کی بجائے ڈی سی ریٹ پر ایکوائر کی گئیں ٹیکسلا یونیورسٹی کی طرف سے 2005 میں بلکسر میں باقاعدہ کلاسز کا اجرا شروع کر دیا گیا بلکسر کے اس سب کیمپس کی وجہ سے اب تک ہزاروں انجینئرز گرایجویٹ کی ڈگری حاصل کر کے مختلف شعبہ زندگی اور بطور اوورسیز پاکستانی دنیا کے بہت سے ممالک میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنے ملک کی معاشی اور تعلیمی ترقی میں سنہری کردار ادا کرنے میں لگے ہیں جبکہ ضلع جہلم میں منظور کیے گئے پنڈدادن خان کے سب کیمپس کا قیام ضلع جہلم کی قیادت اور محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی طرف سے مسلسل عدم دلچسپی کی وجہ سے تاحال التوا کا شکار ہے پنڈ دادن خان کے مقام پر ٹیکسلا یونیورسٹی کے سب کیمپس کے لیے جو زمین ڈی سی ریٹ پر ایکوائر کی گئی وہ اب بھی بیکار پڑی ہے اور اس کی مالیت خرید کردہ مالیت سے ہزار گنا بڑھ چکی ہے یہ زمین خریدنے کی وجہ سے بہت سے مقامی لوگوں کو بہت زیادہ مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور دوسری طرف اس علاقہ کے لاکھوں مکین تعلیم جیسے زیور سے بھی تاحال محروم چلے ا رہے ہیں محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی طرف سے پنڈدادن خان کے باسیوں کے ساتھ اس ناروا سلوک کے خلاف عبداللہ پور سے تعلق رکھنے والی ممتاز سیاسی سماجی و تعلیمی شخصیت چودری محمد اقبال کھوتھی کے صاحبزادے اور قانون کے طالب علم چوہدری حنان حیدر کھوتھی نے علاقہ پھپھرا سے تعلق رکھنے والی ممتاز سماجی و قانونی شخصیت سینیئر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ مرزا اصف عباس کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں حنان حیدر بنام صوبہ پنجاب ایک رٹ پٹیشن دائر کی اور عدالت سے علاقہ پنڈ دادن خان کے لاکھوں مکینوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کے محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کے اس غیر قانونی اور غیر ائینی اقدام کو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف تصور کیے جانے اور پنڈدادن خان کے لوگوں کی تعلیمی ضروریات کے حصول کے لیے فوری طور پر انہیں پنڈدادن خان میں ٹیکسلا یونیورسٹی کے سب کیمپس کی کلاسز کے اجراء کا حکم دینے کا مطالبہ کیا یاد رہے کہ ٹیکسلا یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے اپنے کیمپس کے لیے بلڈنگ کی تعمیر شروع نہ ہو سکنے کی وجہ سے سب کیمپس کی کلاسز کے اجرا کے لیے گورنمنٹ البیرونی ڈگری کالج پنڈدادن خان میں دو بلاک ٹیکسلا یونیورسٹی کے حوالے کرنے کے لیے محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی طرف سے منظوری کے لیے فائل پچھلے کئی سالوں سے محکمہ ہائرایجوکیشن میں بغیر کسی فیصلے کے زیر التوا ہے علاقہ جالب سے تعلق رکھنے والی ممتاز سیاسی سماجی اور تعلیمی شخصیت چوہدری محمد اقبال کھوتھی محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے اعلی عہدے داران سے اس سلسلہ میں مسلسل رابطے کی کوشش میں ہیں اور اور محکمہ کی طرف سے سفارشات صوبائی کابینہ میں منظوری کے لیے بھجوانے کی کوششوں میں لگے ہیں عدالتی محاذ پر چوہدری حنان حیدر کھوتھی اور مرزا اصف عباس ایڈوکیٹ سپریم کورٹ پنڈ دادن خان کی عوام کا کیس بھرپور انداز میں لڑ رہے ہیں جبکہ انتظامی محاذ پر چوہدری محمد اقبال کھوتھی اور پنڈدادن خان سے تعلق رکھنے والی ایک ممتاز تعلیمی شخصیت مرحوم محمد بشیر اسی کے صاحبزادے انجینیئر یاسر بشیر اپنی تمام تر توانائیاں اس کیمپس کے اجراء کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں جبکہ سیاسی محاذ پر چوہدری عابد اشرف جوتانہ کرنل سید زاہد حسین شیرازی چوہدری محمد اقبال کھو تھی اس کیمپس کے قیام کے لیے چوہدری فرخ الطاف جو اس حلقہ سے منتخب ایم این اے ہیں ان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور چوہدری فرخ الطاف صاحب نے انہیں اس کیمپس میں کلاسز کے اجرا کے لیے اپنی طرف سے بھرپور کوششوں اور کلاسز کے اجرا ء کے لیے منظوری لے کر دینے کی کی یقین دہانی کرائی ہے انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب ہم سب مل کر مشترکہ کاوشوں سے اس کیمپس میں کلاسز کے اجراء میں کامیاب ہو جائیں گے۔