تحریر : محمد مظہررشید چودھری (03336963372)
ایک اچھا شہر وہ ہوتا ہے جہاں شہری خود کو محفوظ محسوس کریں، گلیاں صاف ہوں، نکاسی آب کا نظام درست ہو، تعلیمی اداروں کے اطراف محفوظ ماحول میسر ہو اور بنیادی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے شہریوں کو بار بار دروازے نہ کھٹکھٹانے پڑیں۔ شہری زندگی کا معیار دراصل انہی بظاہر چھوٹے مگر روزمرہ زندگی سے گہرے تعلق رکھنے والے مسائل سے متعین ہوتا ہے۔اوکاڑہ بھی ایک تیزی سے پھیلتا ہوا شہر ہے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ نئی کالونیاں وجود میں آ رہی ہیں، ٹریفک کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور شہری ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور شہری نمائندوں کے درمیان موثر رابطہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ اگر کسی مسئلے کی بروقت نشاندہی ہو اور متعلقہ ادارہ اس پر فوری توجہ دے تو ایک معمولی مسئلہ کسی بڑے حادثے یا عوامی پریشانی میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔اسی سوچ کے تحت موومنٹ اگینسٹ ڈرگ ابیوز (ماڈا) اوکاڑہ رجسٹرڈ کے عہدیداران محمد مظہر رشید چودھری صدر ماڈا اوکاڑہ، اورمس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ محمد اکرام ملک سے ملاقات کی اور شہر کے بعض اہم شہری مسائل کی نشاندہی کی۔ یہ ملاقات محض ایک درخواست پیش کرنے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں شہریوں کو درپیش مسائل، ان کے ممکنہ اثرات اور فوری حل کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات میں ایک اہم مسئلہ شہر اور آبادیوں میں بڑھتی ہوئی آوارہ کتوں کی تعداد کا تھا۔ اکبر روڈ، رحمان کالونی، اللہ داد کالونی،گورنمنٹ کالونی ، امیر کالونی، فیصل آباد روڈ،لالہ زار کالونی ، بے نظیرروڈ اور دیگر علاقوں میں آوارہ کتوں کی موجودگی شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ مسئلہ اس وقت مزید حساس ہو جاتا ہے جب آوارہ کتوں کے غول اسکولوں، کالجز اور خصوصاً طالبات کے تعلیمی اداروں کے اطراف دکھائی دیں۔ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچے اور طالبات روزانہ تعلیم کے حصول کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں۔ ان کے راستے میں موجود خطرات کو معمولی سمجھنا مناسب نہیں۔ گورنمنٹ گرلز کالج سٹی اوکاڑہ کے سامنے صبح کے اوقات میں آوارہ کتوں کی موجودگی کی نشاندہی بھی اسی تناظر میں کی گئی۔ شہریوں کا مطالبہ کسی غیر معمولی سہولت کا نہیں، بلکہ محفوظ ماحول کی فراہمی کا ہے۔ اس مسئلے کا مستقل حل صرف ایک مرتبہ کارروائی کرنے سے نہیں بلکہ حساس علاقوں کی باقاعدہ نگرانی، موثر مہم اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے سے ممکن ہے۔دوسرا اہم مسئلہ لالہ زار کالونی میں مسجد اعزازیہ والی گلی کے اطراف سیوریج کی پرانی نالیوں کا ہے۔ عرصہ دراز سے صفائی نہ ہونے کے باعث نالیاں بند ہو جاتی ہیں اور گندا پانی گلی میں جمع رہتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف اہلِ محلہ کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے بلکہ مسجد میں نماز کے لیے آنے والے نمازیوں کو بھی آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سیوریج کا مسئلہ صرف گندے پانی کے کھڑے ہونے تک محدود نہیں رہتا۔ جب نکاسی آب کا نظام مسلسل خراب رہے تو صفائی، ماحول اور شہری صحت کے حوالے سے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ایسے معاملات کو محض روزمرہ کی شکایت سمجھنے کے بجائے بنیادی شہری سہولت کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی گلی کی نالی بار بار بند ہو رہی ہے تو صرف وقتی صفائی کافی نہیں، بلکہ اس کی بنیادی وجہ تلاش کرکے مستقل حل کی طرف جانا چاہیے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مسجد اعزازیہ والی گلی کے مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ بلدیاتی حکام کو پہلے بھی متعدد درخواستیں دی جا چکی ہیں۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ شہری مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کی پیروی بھی ضروری ہے۔ درخواست دینا پہلا مرحلہ ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب مسئلہ حل ہو اور شہری کو اس کا عملی فائدہ پہنچے۔ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ محمد اکرام ملک نے ’ماڈا‘ اوکاڑہ کے عہدیداران کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔ آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی، تعلیمی اداروں کے اطراف خصوصی توجہ اور لالہ زار کالونی میں سیوریج نالیوں کی صفائی و نکاسی آب کے انتظامات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو متحرک کرنا ایک مثبت انتظامی قدم ہے۔تاہم اصل امتحان احکامات کے بعد شروع ہوتا ہے۔ کسی بھی انتظامی حکم کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ اس کے اثرات زمین پر کتنی جلدی اور کتنی موثر صورت میں نظر آتے ہیں۔ شہری یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جن مسائل کی نشاندہی کی گئی، ان پر عملی کارروائی کب ہوتی ہے اور کیا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوتا ہے۔شہری معاشرے میں انتظامیہ اور عوام ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں۔ شہری مسائل کی نشاندہی کریں، انتظامیہ ان کا نوٹس لے اور متعلقہ ادارے عملی کارروائی کریں تو شہر میں بہتری کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ ’ماڈا‘ اوکاڑہ رجسٹرڈ کے عہدیداران کی جانب سے شہری مسائل کو انتظامیہ کے سامنے پیش کرنا بھی اسی شہری ذمہ داری کا ایک حصہ ہے۔اوکاڑہ کو بہتر، محفوظ اور صاف شہر بنانے کے لیے بڑے منصوبوں کے ساتھ چھوٹے مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ایک صاف گلی، ایک کھلی نالی، ایک محفوظ تعلیمی راستہ اور آوارہ کتوں سے پاک ماحول بظاہر چھوٹی کامیابیاں ہیں، مگر شہری زندگی میں ان کی اہمیت بہت بڑی ہے۔ یہی چھوٹی چھوٹی بہتریاں مل کر ایک بہتر شہر کی بنیاد بنتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری مسائل کو شکایت کے بجائے ذمہ داری کے احساس کے ساتھ دیکھا جائے اور ان کے حل کو محض وقتی کارروائی نہیں بلکہ مستقل انتظامی عمل بنایا جائے۔ اوکاڑہ کے شہری بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے، مسائل کی نشاندہی پر فوری توجہ دی جائے اور جاری کیے گئے احکامات کے نتائج انہیں اپنی روزمرہ زندگی میں واضح طور پر نظر آئیں۔ یہی ایک فعال انتظامیہ، ذمہ دار شہری اور بہتر معاشرے کی علامت ہے






