امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک اہم سہ فریقی دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ گرین لینڈ کو امریکی علاقہ بنانے کے ابتدائی مطالبے سے ہٹ کر طے پانے والے اس درمیانی راستے کے تحت گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے اور بیلسٹک میزائل دفاع کے لیے ‘گولڈن ڈوم’ سسٹم قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے قبل خطاب میں اسے خطے کی سلامتی پر مستقل کنٹرول قرار دیا، جبکہ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے اسے نیٹو اتحاد اور حق خودارادیت کا امتزاج بتایا۔ معاہدے کے تحت کسی بھی حریف کو گرین لینڈ میں تحریری اجازت کے بغیر فوجی موجودگی یا حساس سرمایہ کاری کی اجازت نہیں ہوگی۔





