اگست 4, 2026

سنی سنائی باتوں پر فیصلے کیوں خطرناک ہیں؟

تحریر: فیصل جنجوعہ

"سماعتوں پر نہیں، مشاہدوں پر اعتبار کریں، کیونکہ اکثر بہترین انسانوں کے بدترین قصے سنائے جاتے ہیں۔” یہ ایک مختصر جملہ ہے، مگر اپنے اندر ایک پورا سماجی فلسفہ سموئے ہوئے ہے۔ بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ اسی بیماری میں مبتلا ہے کہ ہم کسی انسان کو جاننے سے پہلے اس کے بارے میں سنی ہوئی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں۔ تحقیق، انصاف اور مشاہدہ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہے، جبکہ افواہیں، قیاس آرائیاں اور سوشل میڈیا کی پوسٹس ہمارے فیصلوں کی بنیاد بن چکی ہیں۔ آج اگر کسی باکردار انسان کے خلاف ایک الزام لگا دیا جائے تو لوگ اس کی سچائی جاننے کے بجائے اسے آگے پھیلانے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جھوٹ ہمیشہ سچ سے زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔ ایک منفی خبر چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ حقیقت اکثر خاموش رہ جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے مفکرین، سائنس دانوں، اساتذہ، مذہبی شخصیات اور مخلص رہنماؤں کو بھی اپنے دور میں شدید مخالفت، الزام تراشی اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا۔ جو لوگ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اکثر حسد، تعصب اور مفادات کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس لیے ہر الزام حقیقت نہیں ہوتا اور ہر مشہور بات سچ نہیں ہوتی۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی اس مسئلے کا حل دے دیا تھا۔ قرآن مجید ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ اگر کوئی خبر آئے تو اس کی تحقیق کرو تاکہ لاعلمی میں کسی کو نقصان نہ پہنچا بیٹھو اور بعد میں شرمندگی اٹھانی پڑے۔

افسوس یہ ہے کہ ہم نے اس اصول کو نظر انداز کر دیا ہے۔ آج ایک "فارورڈ” بٹن دبانے سے پہلے ہم یہ نہیں سوچتے کہ شاید ہم کسی بے گناہ انسان کی عزت مجروح کر رہے ہیں۔ گھروں میں، تعلیمی اداروں میں، دفاتر میں اور سوشل میڈیا پر ہم روزانہ ایسے واقعات دیکھتے ہیں جہاں سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر تعلقات ختم ہو جاتے ہیں، دوست دشمن بن جاتے ہیں، خاندان بکھر جاتے ہیں اور باصلاحیت لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کئی لوگ صرف اس لیے خاموش زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ معاشرہ ان کی وضاحت سننے کے بجائے الزام سننے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ ایک باشعور انسان کی پہچان یہ ہے کہ وہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے خود مشاہدہ کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو ان کے کردار، دیانت، اخلاق، محنت اور عملی زندگی سے پہچانتا ہے، نہ کہ دوسروں کی کہی ہوئی باتوں سے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر انسان کو اپنی صفائی کا حق دیا جائے اور ہر خبر کو تحقیق کے بعد ہی قبول کیا جائے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب، بااعتماد اور مضبوط معاشرہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی عادتیں بدلنا ہوں گی۔ افواہوں کو روکنا ہوگا، تحقیق کو فروغ دینا ہوگا اور دوسروں کی عزت کو اپنی عزت سمجھنا ہوگا۔ یاد رکھیں، کردار کی تعمیر میں برسوں لگتے ہیں، لیکن کردار کشی صرف چند لمحوں میں ہو جاتی ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم سنی سنائی باتوں پر نہیں بلکہ اپنے مشاہدے، تحقیق اور انصاف پر یقین کریں گے۔ کیونکہ زندہ قومیں افواہوں سے نہیں، حقائق سے فیصلے کرتی ہیں، اور مہذب معاشرے کردار بناتے ہیں، کردار نہیں مارتے۔ "فیصلہ کرنے سے پہلے تحقیق، اور رائے قائم کرنے سے پہلے مشاہدہ ہی انصاف کی پہلی شرط ہے