جامعہ کراچی میں میڈیا خواندگی اور ڈیجیٹل حقوق پر ورکشاپ کا انعقاد

بدقسمتی سے ہم اخلاقی اقدار سے بتدریج دور ہوتے جا رہے ہیں، حالانکہ اخلاقیات ہمیشہ سے ایک مہذب معاشرے کی بنیاد اور اجتماعی زندگی کا ناگزیر حصہ رہی ہیں: ڈاکٹر محمد طفیل

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم اخلاقی اقدار سے بتدریج دور ہوتے جا رہے ہیں، حالانکہ اخلاقیات ہمیشہ سے ایک مہذب معاشرے کی بنیاد اور اجتماعی زندگی کا ناگزیر حصہ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دین ہمیں واضح طور پر یہ تعلیم دیتا ہے کہ جب بھی کوئی خبر موصول ہو تو اسے آگے بڑھانے سے قبل اس کی مکمل تحقیق اور تصدیق کی جائے۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم میں سے اکثر لوگ بغیر تصدیق کے صرف سب سے پہلے خبر پہنچانے کی دوڑ میں اسے فوراً مختلف گروپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کر دیتے ہیں، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ غیر اخلاقی طرزِ عمل بھی ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے آفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن اورسینٹر فار پیس، ڈویلپمنٹ اینڈ انیشی ایٹوزکے اشتراک سےپیر کے روزجامعہ کراچی کے ظفرایچ زیدی سینٹر فارپروٹیومکس کی سماعت گاہ میں منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ بعنوان: "میڈیا خواندگی اور ڈیجیٹل حقوق” کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں اس نوعیت کی آگاہی ورکشاپس کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ اکثر مختلف تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد بغیر تصدیق کے شیئر کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جو کسی فرد کے لیے جانی نقصان، معاشرتی انتشار یا کسی کی عزت و وقار کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ڈاکٹر طفیل نے مزید کہا کہ اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ایسے مؤثر ذرائع، مہارتوں اور ٹولز سے آگاہ ہوں جن کی مدد سے جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور حقائق پر مبنی معلومات تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ورکشاپ کے دوران حاصل ہونے والے علم اور تجربات کو اپنی عملی زندگی میں بروئے کار لائیں اور معاشرے میں درست معلومات، ذمہ دارانہ طرزِ ابلاغ اور ڈیجیٹل اخلاقیات کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آگاہی عام کرنے کا ذریعہ بنیں۔ڈائریکٹرآفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن جامعہ کراچی ڈاکٹرسیدہ حورالعین نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ سال سینٹر فار پیس، ڈویلپمنٹ اینڈ انیشی ایٹوز(سی پی ڈی آئی) کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد معاشرے میں شہری شعورکو فروغ دینا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس شراکت داری کے تحت جامعہ کراچی کے فیکلٹی اراکین کو میڈیا لٹریسی، ڈیجیٹل رائٹس اور میڈیا آگاہی کی تربیت دی گئی، جس کے بعد ماسٹر ٹرینرز نے طلبہ کو تربیت فراہم کی تاکہ وہ جمہوری اقدار، حقِ رائے دہی اور سماجی ذمہ داری کے حوالے سے آگاہی پھیلانے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ورکشاپ کا مقصد میڈیا، عوامی پالیسی اور عوامی رائے کے بنیادی تصورات کو یکجا کرتے ہوئے طلبہ کو پالیسی سازی اور سماجی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پروگرام کے دوسرے مرحلے میں "چراغ سے چراغ” کے عنوان سے چار روزہ تربیتی سیشن کے بعد طلبہ نے مختلف سوشل ایکشن پروجیکٹس اور عوامی آگاہی مہمات کامیابی سے مکمل کیں، جن کی بہترین ٹیموں کو انعامات سے بھی نوازا گیا۔ڈاکٹر حورالعین نے اس امید کا اظہار کیا کہ جامعہ کراچی اور سی پی ڈی آئی کے درمیان یہ شراکت داری مستقبل میں بھی سماجی ذمہ داری، جمہوری شعور، میڈیا آگاہی اور مثبت سماجی تبدیلی کے فروغ کے لیے مؤثر انداز میں جاری رہے گی۔سینٹر فار پیس، ڈویلپمنٹ اینڈ انیشی ایٹوزکے صوبائی کوآرڈینیٹر عاطف علی نے ادارے کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سی پی ڈی آئی معاشرے میں ذمہ دارانہ طرزِ فکر، شہری شعور اور معلومات کے درست استعمال کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے منعقدہ ورکشاپ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں کسی بھی خبر یا معلومات کو آگے پھیلانے سے قبل اس کی صداقت اور حقائق پر مبنی ہونے کی تصدیق کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ غیر مصدقہ معلومات معاشرے پر مثبت یا منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جعلی اور گمراہ کن معلومات سے نہ صرف خود اجتناب کرنا چاہیے بلکہ دوسروں کو بھی اس کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اس کے پھیلاؤ کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ انکے مطابق اس ورکشاپ کے انعقاد کا بنیادی مقصد شرکاء میں ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویوں کو فروغ دینا، معلومات کی جانچ پڑتال کی اہمیت اجاگر کرنا اور حقائق پر مبنی معلومات کے فروغ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے۔

Exit mobile version