بھارت میں قومی ترانے یا گیت ‘وندے ماترم’ کی توہین اور اس کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے پر تین سال قید کی سزا کا متنازع بل باضابطہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے وزیر مملکت نتیانند رائے کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے اس بل کے تحت اب ‘وندے ماترم’ کی توہین کرنے یا اس کے دوران جان بوجھ کر رکاوٹ پیدا کرنے والے افراد کو تین سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، اور یہ بل بھارتی صدر کی حتمی منظوری کے بعد باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ بل پیش کرتے ہوئے نتیانند رائے کا مؤقف تھا کہ یہ قانون کسی خاص فرد یا کسی مخصوص نظریے کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے وقار اور مشترکہ قومی شعور کے حق میں ایک اہم قدم ہے۔
دوسری جانب، اس بل کی منظوری کے بعد بھارتی سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے جہاں کانگریس سمیت تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کی پُرزور مخالفت کی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ بل بھارتی آئین کے سیکولر کردار کی صریح خلاف ورزی اور شہریوں کی مذہبی آزادیوں کو سلب کرنے کی ایک سوچی سمجھी کوشش ہے، جبکہ دستور ساز اسمبلی پہلے ہی اس گیت کے صرف دو بند منظور کر چکی تھی اس لیے اسے زبردستی نافذ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اس بل کو مذہبی آزادی کی آئینی ضمانتوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘وندے ماترم’ میں چونکہ دیوی دیوتاؤں کی عبادت کے تصورات شامل ہیں، اس لیے یہ قانون دراصل بھارت کو ایک ہندو راشٹرا میں تبدیل کرنے کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ادھر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی اس بل کی منظوری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس قسم کی قانون سازی کے ذریعے کسی بھی مخصوص مذہبی عقیدے یا تصور کو زبردستی تمام شہریوں پر مسلط کرنا بھارتی دستور کی بنیادی روح کے سراسر متصادم ہے۔
