پشاور اور سوات کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اپنی طے شدہ پالیسی پر مکمل طور پر من و عن عمل درآمد یقینی بنائے گی۔ سوات میں بم دھماکے کے زخمیوں کی اسپتال میں عیادت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن ہم سب کی مشترکہ اور اولین ضرورت ہے، اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت ہر مکتبہ فکر کے لوگ امن کے قیام کے لیے بالکل متفق ہیں، جبکہ اس امن کی بحالی کے لیے خیبرپختونخوا کے غیور عوام کو خود آگے بڑھ کر کھڑا ہونا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس کو صوبے میں امن کے قیام کے لیے اپنا بھرپور کلیدی کردار ادا کرنا ہے، اور اس مقصد کے لیے ان کی حکومت پولیس اور سی ٹی ڈی کو تمام تر ضروری وسائل فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کو جدید آلات اور بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لیے پینتیس ارب روپے سے زائد کے فنڈز فراہم کیے ہیں، کیونکہ ہماری پولیس اور سی ٹی ڈی کے علاوہ یہاں کوئی تیسرا فریق امن قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ امن کے بغیر صوبے میں ترقی اور خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، اس لیے ہمارے لیے سب سے پہلے امن کا حصول ضروری ہے کیونکہ ہماری پولیس باصلاحیت ہے اور اس نے ملک و قوم کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔
وفاقی حکومت کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے تنقید کی کہ وفاقی حکومت فارم 47 کے تحت اقتدار میں آئی ہے اور ان کے پاس کوئی اصل اختیار نہیں ہے، اس لیے وہ خیبرپختونخوا کی فکر چھوڑ کر اپنی حکومت کی فکر کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی پیز کی مد میں پانچ ہزار ارب روپے دیے گئے ہیں جبکہ اس وقت ملک کی جی ڈی پی دن بدن گرتی چلی جا رہی ہے۔ آخر میں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ خیبرپختونخوا میں عوام کے اصل مینڈیٹ سے حکومت قائم ہوئی ہے، اس لیے ہمارا اولین فریضہ صرف اور صرف عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری کے بارے میں سوچنا ہے۔





