ڈگڈگی کا تماشہ اور سویا ہوا شعور

تحریر: محمد انور بھٹی

بندن میاں مدتوں سے عرض کرتے چلے آ رہے ہیں کہ یہ دنیا کسی سنجیدہ درسگاہ یا منظم دفتر کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا بے کنار میلہ ہے جہاں ہر سمت ڈگڈگیوں کی گونج سنائی دیتی ہے اور ہر آواز اپنے پیچھے ایک نیا فریب، ایک نیا تماشا اور ایک نئی دل فریبی لیے کھڑی ہوتی ہے۔ کوئی وعدوں کے رنگین غبارے فضا میں چھوڑ کر امیدوں کے آسمان کو سجا دیتا ہے، کوئی لفظوں کے خوش نما محل تعمیر کر کے حقیقت کی بنیادیں کھوکھلی کر دیتا ہے، اور کچھ ایسے شعبدہ باز بھی ہیں جو جذبات کی دیگ چڑھا کر محض خوشبو سے لوگوں کی عقل و فکر کو آسودہ رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔


ایک روز بندن میاں اسی میلے کے ایک گوشے میں خاموش کھڑے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے کہ اچانک ایک شخص نہایت جوش و خروش سے ڈگڈگی بجاتا ہوا نمودار ہوا۔ وہ بڑے اعتماد سے اعلان کر رہا تھا کہ آج ایسا کرتب دکھائے گا جسے دیکھ کر عقل بھی حیرت کے سمندر میں ڈوب جائے گی۔ مجمع اس کے گرد اس طرح جمع ہونے لگا جیسے کسی نایاب نعمت کی مفت تقسیم ہونے والی ہو۔ بندن میاں نے یہ منظر دیر تک خاموشی سے دیکھا، پھر تبسم لب پر سجائے نہایت متانت سے گویا ہوئے کہ اس کھیل کا اصل راز کرتب دکھانے والے کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ ان آنکھوں میں پوشیدہ ہے جو ہر مرتبہ اسی پرانے فریب کو ایک نئی حقیقت سمجھ کر دیکھنے کے لیے بے قرار رہتی ہیں۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اہل خرد نے بجا فرمایا ہے کہ جب تک سادہ لوحی زندہ رہے گی عیاری کبھی رزق سے محروم نہیں ہوگی۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سادہ لوحی اب محض لاعلمی نہیں رہی بلکہ ایک پسندیدہ سماجی رویہ بن چکی ہے۔ حقیقت ہمارے سامنے پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے مگر ہم اس سے نظریں چرا کر اس دھوکے کو گلے لگا لیتے ہیں جو وقتی تسکین تو دیتا ہے مگر رفتہ رفتہ پوری قوم کی فکری بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔


بندن میاں نے قریب کھڑے ایک نوجوان سے دریافت کیا کہ اس تماشے سے اسے کیا حاصل ہوا۔ نوجوان نے بے ساختہ جواب دیا کہ بس لطف آیا۔بندن میاں نے چند لمحے خاموش رہ کر نہایت شفقت سے کہا کہ یہی وہ نازک موڑ ہے جہاں قوموں کی فکری تنزلی کا آغاز ہوتا ہے۔ جب شعور کی جگہ تفریح لے لے، تحقیق کی جگہ تقلید اور سوال کی جگہ واہ واہ جنم لینے لگے تو ہر شور خود کو رہبر کہلوانے لگتا ہے اور ہر مجمع اندھی پیروی کی زنجیروں میں جکڑ جاتا ہے۔
آخر میں بندن میاں نے بھرپور درد کے ساتھ کہا کہ معاشروں کی اصلاح باہر کے تماشوں کو مٹانے سے نہیں بلکہ اپنے باطن کو بیدار کرنے سے شروع ہوتی ہے۔ جب انسان ہر آواز پر سر جھکانے کے بجائے اسے شعور، بصیرت اور حق کی کسوٹی پر پرکھنا سیکھ لے تو بے معنی ڈگڈگیاں خود بخود خاموش ہو جاتی ہیں، کیونکہ ہر تماشے کی اصل قوت تماشائیوں کی توجہ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب یہی توجہ بیدار شعور میں ڈھل جائے تو فریب اپنی تمام تر کشش کھو دیتا ہے، اور پھر ایک شور زدہ میلے کی جگہ ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے جہاں کرتب نہیں کردار، شور نہیں صداقت، اور ہجوم نہیں بصیرت عزت و وقار کی علامت بن جاتی ہے۔جس معاشرے میں ڈگڈگی کی آواز، دلیل سے زیادہ طاقتور ہو جائے وہاں تماشے جنم لیتے ہیں، تاریخ نہیں۔ اور جہاں شعور بیدار ہو جائے وہاں شور خود اپنی موت مر جاتا ہے۔

Exit mobile version