کالمکار: جاوید صدیقی
سوشل میڈیا کے ایک گروپ میں ، میں نے ایک تحریر اور آپ ﷺ کی آمد پر ایک چھوٹی سی وڈیو بنا کر شیئر کی تاکہ عاشقان و غلامان کو سکون پہنچے اور انہیں یہ وڈیو دیکھ کر عشق کی لذت دوبالا ہوجائے میری اس تحریر میں لکھا تھا کہ ”ھم مسلمانوں کی جان مال عزت آبرو سے زیادہ مقدس معتبر آقا و معلیٰ حضور ﷺ کا آمد کا دن آنے والا ھے بڑے اہتمام سے تیاریاں شروع کردیں“ اور
آپ ﷺ کی آمد پر خوبصورت سی مختصر وڈیو اپ لوڈ کی اس تحریر اور وڈیو پر ایک معزز ممبر نے اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ عید میلادالنبی ﷺ کا دن خلفاء راشدین اور اہل بیت نے بھی کبھی نھیں منایا۔ انکی اس کم علمی اور کٹ ملاؤں کی صحبت کا اندازہ ہوگیا کاش یہ عمر رسیدہ دوست کچھ تو مطالعہ کرلیتے بس پورا کا پورا تکیہ انہیں کٹ ملاؤں پر تکیہ رکھے ہوئے ہیں میں نے اس تحریر کے جواب میں لکھا کہ قبلہ آپ کیوں اپنی اولاد در اولاد کے پیدائش کی خوشی میں خوش ھوتے ہیں یہ شدید ترین گناہ ھے کیونکہ قرآن و احادیث میں قطعی نہیں آیا قبلہ وہ احسن عمل جس کا نہ منع آیا اور نہ کرنے کا کہا گیا اس عمل کرنے سے قطعی گناہگار نہیں ہوتا آپ ﷺ نے جب مکہ سے مدینة المنورہ تشریف لائے تو مدینة المنورہ کی بچیوں کو خوشی سے نہیں روکا نکلیں ان تمام جاہل مولوی ملاؤں کے چکر سے حقیقی معنوں میں قرب کا ذریعہ ہی عشق و محبت ھے بناء عشق میں ڈوبے نہ رب مل سکتا ھے نہ رسول ﷺ کی ذات اقدس کی رحمت۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کس فرقہ سے بندھے ہوئے ہیں لیکن یہ نظریات دیوبندی اور اہلحدیث کے موجودہ سو دو سو سال کے مولویوں نے گھڑ رکھے ہیں جیسے بریلویوں نے بھی بیشمار من گھڑت کہانیاں مسلک میں سجالی ہیں اسی طرح اہل تشیع نے بھی۔ مختصر عرض ھے کہ خود کو مسالک سے نکالیں خالص مسلمان یا مومن بن جائیں یہ اس طرح ممکن ھوگی کہ قرآن و احادیث کے مطالعہ اور اسلامی تواریخ کا بھی جائزہ لیتے رہیں کیونکہ یہود و نصاریٰ، جھوٹے نبوت کے دعویدار، ظالم و جابر جاہل مسلم حکمرانوں نے بھی جس قدر دین محمدی ﷺ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی وہ آج سب کے سامنے ھے اور اب مسالک بھی وہی عمل کررھے ہیں اصل دین سے ہٹاکر صرف اپنے مسلک کی ترویج اور فروغ پر ہی مرکز رکھا ھوا ھے۔ دین محمدی ﷺ، آپ ﷺ کی ذات اقدس کو مرکز بناتے ہوئے خلفائے راشدین کے رنگ میں دیکھیں، تابعین و تبع تابعین اور اولیاء اسلافین کے رنگ میں دیکھیں۔ مولانا روم نے علوم میں نہیں بلکہ درویش میں رنگ دیکھا تھا پھر پوری زندگی اسی رنگ میں رھے اللہ تبارک تعالیٰ نے رنگ کی بو سے معطر کردیا یہی نہیں حضرت شہباز قلندر ؒ، حضرت داتا گنج بخش ؒ، حضرت خواجہ غریب نواز ؒ، حضرت غوث پاک ؒ اور بیشمار لاکھوں اولیاء و اسلافین نے جو تربیت و اصلاح فرمائی بدبخت پیروں مرشدوں نے اس میں بھی خیانت برتی اور اصل راہ کو بدلنے کی کوشش کی۔ دین محمدی ﷺ بہت آسان اور سہل ھے لیکن اب بہت مشکل اور پیچیدہ بنادیا گیا ھے اسی لئے جذبات کے بغیر تحمل سوچ و افکار غور کیساتھ سنبھل سنبھل کر قدم رکھنے کی ضرورت ھے اگر آپ کا دل نہیں مانتا ھے نبی پاک ﷺ کی آمد پر خوشی منانے کا دل نہیں کرتا تو نہ کریں مگر کسی دیوانے کو منع ہرگز نہ کریں ورنہ پھنس جائیں گے اللہ کی بارگاہ میں۔ اللہ نے ہی عاشقوں اور دیوانوں کیلئے اپنے پیغمبروں رسولوں کو مقام دیکھایا ھے کہ یہ اپنے رب کے چاہنے والے ہیں بس آپ کیلئے اتنا ہی کافی ھے کیونکہ 60 سال سے زائد میری عمر ہوگئی اور یقیناً آپ کی بھی ہوگی۔ آج کل ھم قبر میں چلے جائیں گے تین سوال اور پھر تیسرا سوال آپ مقدس و معتبر ذات اقدس حضور پر نور محمد عرابی ﷺ کے متعلق ہی ہوگا جب کی آمد کی خوشی کو پسند نہیں کریں گے دنیاوی زندگی میں تو بعد موت آپ ﷺ کہیں منہ نہ موڑ لیں ذرا سوچئے گا ضرور اور غور کیجئے گا پوری زندگی ان مولویوں ملاؤں جعلی پیر و مرشدوں کے چکر میں رھے کبھی اپنے دل کو نہ ٹٹولا نہ دیکھا نہ روشن کیا یہ کیسی عبادت تھی کہ دل بجھا کا بجھا ہی رھا۔ مسلمان اور مومن کا دماغ نہیں دل روشن رہتا ھے اسکی فراست بھی اعلیٰ چمکدار رہتی ھے جبھی تو کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ جنہیں دیکھ کر خدا بھی یاد آیا یعنی مسلمان اور مومن ایسے ہوتے ہیں جنکی پیشانی اور دل نور سے منور روشن نظر آتے ہیں نور کیا ھے نور اللہ کی تجلی کا ایک معمولی کا عکس ھے حقیقت میں نور تو اللہ ہی ھے جس نے اپنے نور سے یہ سب کچھ بنایا بیشک اللہ جسے چاہے ہدایت بخشے اور جسے چاہے اپنے نور کے عکس کا ذرہ عنایت کردے یہ سب اللہ تبارک کائنات بھر میں اپنے محبوب ﷺ کے صدقے عطا کرتا ھے۔ اسی لئے رب کو منانے راضی کرنے کیلئے وہ ادا اپناتا ھوں جس کی رب نے اجازت دی ھے۔ اللہ نے اپنے تمام رسل تمام پیغمبر اور تمام نبی کو وہ شرف نہیں بخشا جو حضور کائنات کو عطا کیا۔ آپ ﷺ کو اپنا محبوب بنایا، آپ ﷺ کو خاتم الانبیاء ، امام الانبیاء ، خاتم الرسل ، مولائے کل بنایا اور اپنے عرش پر باحیات بلاکر رحمت اللعالمین بنایا اور کہہ دیا جہاں جہاں میری ربیت ھے وہاں وہاں میرے محبوب کی رحمت ھے۔ پھر اللہ نے ہی اعلان کردیا کہ اے محبوب ھم نے آپ ﷺ کو بہترین خلق میں پیدا کیا۔ جس جس نے ظلم کیا اور آپکے در آ پہنچے تو ان میرے بندوں کو نوید سنادو کہ اسے ھم نے آپکے صدقے معاف کیا۔ یاد رکھئے کہ رب العزت آپ ﷺ کے صدقے معاف کرتا رہیگا مقام عطا کرتا رہیگا بناء قرب الہٰی بناء عشقِ رسول ممکن نہیں ھے اور بناء عشقِ اہلبیت عشق رسول ممکن نہیں۔ یہی میرا دین ھے یہی میرا ایمان میں نہیں جانتا کسی مولوی ملا کو میں سمجھتا ھوں تو صرف عشق و محبت دیوانگی جو سر چڑھ کر بولے اللہ میری عبادتوں میں عشق کا رنگ بھردے اور مجھے صراط المستقیم پر قائم رکھ کیونکہ صراط المستقیم ہی اصل عشق کی راہ ھے یاد رکھئے آپ ﷺ کی آمد پر انسانوں کے دلوں سے دعائیں سمیٹیں ہر طرح کی مدد کرکے کیونکہ اللہ اور حبیب خدا کو حقوق العباد ادا کرنے والے بہت پسند ہیں اور جو اس حق سے بھی زیادہ حق ادا کرتے ہیں وہ خاص بندوں میں شامل ہوجاتے ہیں اور خاص رسول خدا ﷺ کے غلاموں کی فہرست میں شامل کرلئے جاتے ہیں دعا ھے اللہ ہمیں بھی اس فہرست میں شامل کردے آمین یا رب العالمین۔ آخر میں یہ کہنا چاہتا ھوں کہ نبی ﷺ کا خوبصورت ترین الفاظ میں ذکر کرنا ہی میلاد ھے گویا قرآن احادیث اور اہل بیت میلاد ہی تو مناتے ہیں پہلے آپ جان لیجئے سمجھ لیجئے کہ میلاد کسی کہتے ہیں ”میلاد کے لغوی معنی پیدائش یا ولادت کا وقت ہیں، جبکہ عرفِ عام میں یہ حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ مبارکہ اور اس کی خوشی میں منعقد ہونے والی ذکرِ مصطفى و سیرت النبی کی محافل کو کہا جاتا ہے۔“ اب قرآن کا مطالعہ کیجئے گا کہ کیا آپکی پیدائش و پرورش کے بارے میں قرآن و احادیث خاموش ہیں ارے بھائی جنکا ذکر رب اپنے فرشتوں کی محافل میں بار ہا بار کرے تو پھر حضرت انسان کو کیوں تکلیف، تکلیف تو ابلیس کو ہوتی ھے یہ بلاوجہ اپنے اوپر لادنے کی کوشش کرتے ہیں اب سمجھے محترم یہ ذات اقدس کوئی معمولی نہیں اس ذات اقدس پر فرشتوں کے سردار بھی ادب سے آتے ہیں اجازت طلب کرتے ہیں۔ پھر وہ لکھتے ہیں کہ ” سالگِرہ ” جدید دور کی مستیاں ھیں ۔ اس کا دین اسلام سے کیا لینا دینا ھے ۔ ۔ ۔ انکے اس بات کا جواب دیتے ہوئے میں نے لکھا
میرے محترم آپ میری مکمل تحریر ایکبار تو پڑھ لیجئے کہ میں کیا کہنا چاہ رھا ھوں پھر وہ لکھتے ہیں میں کسی فرقہ پرستی یا قبرپرستی کا شکار نھیں ھوں ۔ صرف اور صرف دین اسلام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس پر ھمارے پیارے نبی "ص” خلفاء راشدین، ،، حضرت علی اور اہل بیت تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان میں سے کسی نیں کبھی میلاد نھیں کیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور میلاد ہندوستان میں ھو نیں لگا ھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انکی اس تحریر پر میرا جواب تھا بدعت دو اقسام کی ہوتی ھے ان میں ایک بدعت حسنہ بھی ھے جسے مجتہدین کرنے کی اجازت مرحمت فرماتے ہیں جیسے آج خانہ کعبہ اور مسجد بنوی میں جدید قسم کے ساؤنڈ سسٹم اور سیکیورٹی کیمرے وغیرہ وقت کیساتھ دنیا تبدیل ہورہی ھے مکمل بنیاد اور اساس وہی رکھی جاتی ھے جو دین محمدی ﷺ میں قرآن و احادیث و فقہ منطق اور صحیح روایات میں درج ھے وہ روایات جو قرآن و احادیث سے متصادم ہوں غلط ہیں اور وہ احادیث جو قرآن سے متصادم ہوں ضعیف حدیث کہلاتی ہیں۔ میرے عزیز محترم یہ دور فتن ھے یہاں قدم پھونک پھونک کر چلنا پڑیگا کیونکہ ذرا سی لا علمی اصل راہ سے ہٹاسکتی ھے لیکن عشق و محبت کی دولت ہی سہارا ثابت ہوسکتی ھے عشق و محبت مسلک کی محتاج نہیں۔ میرے دوست جب حضرت محمد بن عبداللہ المعروف امام مھدی ؑ تشریف لائیں گے تو اس وقت کونسا مسلک اپنائیں گے یہ بات آپ کسی بھی مسلک کے عالم سے پوچھ لیجئے گا پھر وہ کیا جواب دیتا ھے بتایئے گا ضرور میرے علم و مطالعہ کے مطابق حضرت امام مھدی ؑ کے ظھور کے بعد تمام مسالک ختم ہوجائیں گے وہی دین محمدی ﷺ ہوگا اور اس دین کی اطاعت ہوگی جو آپ ﷺ لیکر آئے تھے اسی دین کو حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ بھی اپنائیں گے کیونکہ آپ نے اپنے دور نبوت میں رسول خدا ﷺ کی امتی بننے کی خواہش و التجا کی تھی جسے رب نے قبول فرمایا اور آپ حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ کو زندہ آسمان پر اٹھالیا تھا آنے والے زمانے میں آپ دوبارہ زمین پر آئیں گے مگر آخری نبی ﷺ کا امتی بنکر پھر آپ کا وصال بھی ہوگا کیونکہ رب کی منشاء اور حکم بھی یہی ھے ہر ذی شئے کو موت کا مزا چکھنا ھے یعنی موت آنی ھے موت برحق ھے۔
صرف ایک بات سمجھ لیں ہر خطہ ہر جگہ کا اپنا اپنا مزاج ہوتا ھے وہاں کے لوگ اپنے اپنے انداز سے اظہار کرتے ہیں وہ اظہار جو شرک میں آئے قطعی دین میں قبول نہیں وہ اظہار جو شرک سے پاک ھو اور کیفیت و محبت کا منبع ھو قابل قبول ھے۔ پھر وہ لکھتے ہیں کہ آخری نبی "ص” کے باد والی بات فروڈ ھے ۔ فرقہ پرستی کو تقویت دینیں کے لئے جھوٹی کہانی ھے ۔ ۔ ۔ ھمارے آخری نبی کے باد کوئ نھیں آنے والا ھے ۔ قرآن شریف میں بھی نھیں ھے ۔ ۔ ۔ انکی اس تحریر کا جواب کچھ اس طرح سے دیا یہی تو میں بھی کہہ رھا ھوں پھر وہی عرض کرونگا کہ میری تحریر کے ایک ایک لفظ کو ضرور پڑھیں تاکہ آپکو پوری بات سمجھ میں آجائے آپ مولویوں ملاؤں کے پڑھے پڑھائے چند لفظوں میں ہی اٹکے ہوئے ہیں اللہ کی کائنات بہت بڑی ھے اور اللہ نے اس تمام کائنات سے وسیع بلند ترین مقام رسول خدا ﷺ کو عطا کیا ھے پھر تعریف و میلاد نہ منائیں تو کیا کریں جسکی تعریف رب بار بار قرآن پاک اور احادیث میں کررھا ھے اس عظیم ترین ہستی کیلئے محافل نہ سجائیں تو ہماری بدقسمتی ہی ھے۔ اس تحریر کے بعد جواب نہ آیا۔ معزز قارئین!! قرآن پاک کی بسم اللہ پھر الحمد شریف اور آخر میں سورة الناس تمام کا تمام ذکر تعریف بیان شان اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کے متعلق ہی بھرا پڑا ھے۔ عید میلاد النبی ﷺ کو منانا وقت کی اشد ضرورت ھے تاکہ دشمنانان اسلام کو اسلام پر گرفتہ مجاھدین کا اندازہ رھے یہ امت بہادر سپہ سالار حضور کائنات کیساتھ جھاد کرتی رہی ھے یہ امت خلفائے راشدین کیساتھ جھاد کرتی رہی یہ امت مسلم مملوکیت اور مذہبی بادشاہوں کیساتھ بھی جھاد کرتی رہی یہ امت چند چند صدیوں اور موجودہ زمانے میں بھی جھاد کر رہی ھے اور تا قیامت کرتی رہے گی۔ جھاد کیا ھے جھاد عشق و محبت کی انتہاء ھے جس میں عشق و محبت ادب و احترام غلامی کی چاشنی نہیں میں سمجھتا ہوں ایسا مسلمان منافق تو ہوسکتا ھے مسلمان و مومن نہیں۔ مسلمان اور مومن کی شان ہی یہی ھے کہ وہ اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کے عشق و محبت میں دیوانگی کی حد تک سرشار ھو آج خالد بن ولید ؒ ، طارق بن زیاد ؒ جیسے بیشمار سپہ سالاروں نے جھاد کے ذریعے دین کو سر بلند رکھا تاریخ اسلام میں سب سے بلند ترین عظیم ترین عشق و محبت کی تمام حدود سے بالاتر جھاد عظیم کربلا کے میدان میں ہوا جس کے سپہ سالار ہی اللہ اور اسکے حبیب کے چہیتے پیارے لاڈلے اور عظیم ترین تھے وہ ہم سب کی جان سے بھی زیادہ معتبر عزیز جناب عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام اور انکے اہلخانہ و عزیز و اقارب و عاشقان و غلامان سپاہی تھے جنھوں نے زمین پر جھاد کرکے زمین کو مقروض بنادیا۔ وہ زمین تا قیامت آپ امام حسین ؑ کے خون کی مقروض رہیگی۔ یہی وجہ ھے کہ ہر عاشورہ کے موقع پر زمین کے آنسوؤں سے بھی خون ابھرتا ھے۔ یہ وہ عشق کی مبازل ہیں جو امتی کو روحانی کیفیت میں کہاں سے کہاں پہنچادیتا ھے، عبادت ہو تو عشق و محبت کیساتھ کیفیت ہو تو عشق و محبت کیساتھ بناء عشق و جنوں جینے کا کوئی فائدہ نہیں ورنہ جیتے تو بہت سے جانور بھی ہیں۔ مقامِ اشرف ملا ہی عشق و محبت و جنون و کیفیت رھے رسولِ خدا ﷺ کیساتھ جب تک یہ عمل نہیں روح بھی مردہ رہیگی، یہ بات ہر مسلمان ہر مومن کے دل و دماغ میں ہمیشہ ہر وقت پیوستہ ھونی چاہئے کہ جب کوئی نہ ہوگا سوائے رب العزت کے اس وقت بھی وہی واحد لاشریک رب العزت ہمارے آقا و معلیٰ حضورِ کائنات محمد مصطفیٰ ﷺ کو یاد رکھے گا اور آپ ﷺ کو ہی تمام الانیباء و رُسل اور تمام امتوں کا شاھد مبشر منیر اور گواہ بنائیگا۔ لاتعداد آپ ﷺ پر درود و سلام کہہ آپکا ہی اللہ شفاعت کا حق عطا کریگا اور آپ ﷺ ہی اللہ کے بندوں کی شفارش فرمائیں گے۔ روز محشر اللہ کا شدید ترین غضب ہوگا اللہ اپنے جلال میں ہوگا اس جلال کو آپ ﷺ اپنے جبیں و تسبیح سے ہی ٹھنڈا نرم رحم پر لائیں گے ھم کیوں نہ درود و سلام کی محافل سجائیں کہ آپ جیسا نہ کوئی رب نے پیدا کیا نہ پیدا کریگا ھم کیوں نہ درود و سلام کی محافل سجائیں کہ آپ ﷺ جیسا حسین و جمیل بنایا کہ جس پر کائنات کا حسن بھی شرما جائے، ھم کیوں نہ درود و سلام کی محافل سجائیں کہ آپ ﷺ جیسا رسول اور بندہ عرشِ بریں پر پہنچا کہ جہاں نوری فرشتوں کے بھی پر جل جاتے ہیں۔ ھم کیوں نہ درود و سلام کی محافل سجائیں کہ آپ ﷺ نے مقام سدرة المنتہٰی کو بھی عبور کیا اور رب العزت کے روبرو دیدار عشق و محبت کا جام پیا۔ کوئی لاکھ مجھ سے ناراض ہوجائے کوئی لاکھ مجھ پر اعتراض کرلے کوئی لاکھ مجھ پر فتویٰ لگالے میں عشق و محبت کو ہی اہمیت دیتا رہونگا مست رہونگا دیوانہ بنا رہونگا اللہ مجھے تاحیات عشق و محبت رسول خدا و اہلبیت سے سرشار رکھے کیونکہ اصل حیات یہی ھے اصل زندگی یہی ھے اصل منزل یہی ھے اصل روح اور نور بھی یہی ھے کہ مست جیئو عشقِ رسول ﷺ میں اور جھاد پر جھاد کرتے رھو کفار و مشرکین سے ۔۔۔ آمین یا رب العالمین!!
