تحریر: محمد انور بھٹی
اسلام آباد کی تاریخی اور باوقار فضا میں منعقدہ پاکستان کی پہلی قومی اقتصادی سمٹ کی مرکزی تقریب کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا تفصیلی، مدبرانہ اور بے باک خطاب محض ایک روایتی سیاسی بیان، دفتری رسمی گفتگو یا کسی سرکاری تقریب کا تکلفانہ روپ نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے موجودہ مخدوش، ناپائیدار، ابتر اور بحران زدہ سماجی، سیاسی و معاشی ڈھانچے کا وہ حقیقت پسندانہ اور چشم کشا مرثیہ ہے جس کو اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ارباب اختیار اور مقتدر طبقات کی جانب سے شاذ و نادر ہی اس قدر صراحت، دردمندی، دیانت داری اور بے باکی کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے انہوں نے اپنے خلوص نیت اور سچائی کا اعلیٰ ترین مظاہرہ کرتے ہوئے اس تاریخی حقیقت کا برملا اعتراف کیا کہ وہ عموما سیاسی نوعیت کی لفاظی، الزامات کی سیاست اور روایتی خطابت سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں تاہم ملک و ملت کے موجودہ ہنگامی حالات، گہرے ہوتے ہوئے معاشی بحرانوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کے مخدوش مستقبل نے انہیں اس تلخ ترین اور بھیانک حقیقت کے برملا اظہار پر مجبور کر دیا ہے کہ جس فرسودہ، ناہموار، طبقاتی اور ازکار رفتہ نظام کے تحت ہم اس وقت اپنی قومی زندگی بسر کر رہے ہیں وہ اندر سے مکمل طور پر گل سڑ کر بوسیدہ اور زمین بوس ہو چکا ہے اور اس زوال پذیر ساخت کے اندر رہتے ہوئے اس عظیم مملکت خدا داد کے سنگین اور پیچیدہ معاشی و انتظامی مسائل کا کوئی پائیدار، پختہ یا عاقلانہ حل تلاش کرنا مطلق طور پر نا ممکنات میں شامل ہو چکا ہے ان کا یہ شدید انتباہ اور درد مندانہ تنبیہ انتہائی فکر انگیز اور لائق غور ہے کہ اگر ہماری یہی مجموعی روش، عدم توجہی، غفلت اور ناکارہ انتظامی ڈھانچہ بغیر کسی بنیادی اور انقلابی تبدیلی کے یونہی برقرار رہا تو آیندہ ایک دہائی یعنی دس سال کے طویل عرصے بعد بھی ہم اسی مقام پر کھڑے انہی ناکامیوں، محرومیوں، قرضوں اور پریشانیوں پر نالہ و شیون اور لائحہ عمل کی خالی گفتگو کر رہے ہوں گے کیونکہ جب تک ملکی معیشت، سیاست، قانون اور حاکمیت کی بنیادی چیزوں اور ستونوں کی کامل تصحیح و جراحی نہیں کی جائے گی اس وقت تک یہ ہمہ گیر مسائل اور آفتیں اسی طرح برقرار رہیں گی۔اس تمام تر ناگفتہ بہ صورت حال میں اصل اور مرکزی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس زوال پذیر اور بوجھل نظام کی اصلاح، جراحی اور ازسرنو تعمیر کی عظیم اور تاریخی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ جس دن ملکی فیصلے کرنے والے بااثر طبقات، سیاسی رہنماؤوں، ریاستی اداروں اور غیور عوام نے اس شکست خوردہ نظام کی درستی اور قانون کی بالادستی کا پختہ ارادہ کر لیا اسی دن سے قومی اصلاح، ترقی اور خوشحالی کے تمام مسدود راستے ازخود وا ہونا شروع ہو جائیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے ملک میں انتظامی سہولت، شائستہ حاکمیت اور عوامی مسائل کی ان کی دہلیز پر فوری حل کے لیے نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام کو وقت کی اہم ترین اور ناگزیر ضرورت قرار دیتے ہوئے اس امر پر سخت زور دیا کہ جب تک تمام سیاسی مکاتب فکر، بااثر طبقے اور تمام تر سیاسی دھارے ایک میز پر بیٹھ کر ملکی بقا کے لیے دور رس فیصلے نہیں کریں گے ریاست اسی طرح بدحالی، عدم استحکام، قرضوں کے بوجھ اور بے سمتی کا شکار رہے گی جبکہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تشکیل کے اس نہایت حساس، نازک اور بنیادی معاملے کو حتمی فیصلہ سازی کے لیے براہ راست عوام کی منشا، رائے اور مرضی کے سامنے لانا ہوگا تاکہ عوامی تائید سے فیصلے ممکن ہو سکیں۔ انہوں نے ملک کے تڑپتے ہوئے، انتہائی باصلاحیت اور روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہوئے نوجوانوں کی گہری بے چینی، بیزاری اور اضطراب کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ ہماری نسل نو اپنا جائز حق، مساوی مواقع اور میرٹ کی بنیاد پر شفاف ملازمتیں چاہتی ہے اور انسانی تاریخ اس آفاقی حقیقت کی شاہد و گواہ ہے کہ جب محروم، غضب ناک، بے روزگار اور ناامید عوام یا نوجوان بیدار اور متحد ہو جائیں تو وہ کسی بھی طاقت ور اور قائم شدہ ظالمانہ نظام کی بنیادوں کو پلک جھپکتے میں الٹ کر رکھ دینے کی کامل صلاحیت رکھتے ہیں ملکی معیشت اور بجٹ سازی کی دگرگوں، مضحکہ خیز اور دردناک صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے گھرانہ معیشت کی انتہائی سادہ مگر گہری اور پراثر تمثیل پیش کی کہ دنیا کا کوئی بھی عقل مند، ذی شعور اور ذمہ دار خاندان اپنے مہینے کا آغاز ہی لاکھوں روپے کے نا قابل برداشت مقروض ہونے سے نہیں کرتا مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنا قومی بجٹ ہی خسارے اور نفی کی بنیاد پر اس انداز میں تیار کرتے ہیں کہ اس سال مزید کتنا قرض حاصل کرنا ہے اور پچھلے واجب الادا تمام تر سنگین قرضوں کی ادائیگی کے لیے کس قدر سود در سود رقم دوسرے ملکوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مانگنی ہے جس کے نتیجے میں واقعی اصلاح اور بہتری کے بجائے ہر سال ہماری ملکی مقروضیت اور معاشی غلامی کے خوف ناک حجم میں گراں قدر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جو کسی بھی بنیادی ساختی ری سیٹ اور انقلابی درستی کے بغیر ہرگز ٹھیک نہیں ہو سکتا۔قائد ایوان اور وزیر اعظم شہباز شریف کی شب و روز انتھک محنت، لگن اور کوششوں کا سچے دل سے اعتراف کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قطع نظر اس کے کہ حکومت کے سربراہ روزانہ بارہ، چودہ یا اٹھارہ گھنٹے مسلسل کام کریں لیکن موجودہ نظام کے بنیادی نقائص، ساختی خرابیوں اور دباؤ کی موجودگی میں یہ تمام تر خلوص، محنت اور کاوشیں محض وقتا فوقتا آگ بجھانے کی تگ و دو یعنی عارضی اقدامات تک ہی محدود رہیں گی جن سے ملکی معیشت اور انتظامیہ کو کبھی بھی حتمی شفا، استحکام اور استقامت ملنا ناممکن ہے بعد ازاں تقریب کے اختتام پر صحافیوں کے ساتھ ہونے والی غیر رسمی گفت و شنید، سوال و جواب اور تبادلہ خیال کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حساس اور باریک نقطے پر مزید روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ جب تک تمام سیاست دان اور سیاسی جماعتیں مل کر ملک کے آئینی، انتظامی، قانون سازی اور سیاسی نظام کو درست نہیں کریں گی اس وقت تک عسکری قیادت یعنی فیلڈ مارشل کی تمام تر انتھک محنت، تگ و دو، رات دن کی جدوجہد اور قربانیوں کا ریاست اور عوام کو کوئی پائیدار یا دیرپا فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا کیونکہ جب تک ہمارے اپنے گھر کا اندرونی نظام، اصلاحات اور قواعد درست نہیں ہوں گے تب تک بیرونی یا عارضی کاوشیں بالکل بے سود اور ضائع ثابت ہوں گی۔ انہوں نے صفائی پیش کرتے ہوئے اور ابہام دور کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی طور صدارتی نظام کی وکالت، ترغیب یا حمایت نہیں کر رہے کیونکہ فیلڈ مارشل نے بھی متعدد بار اس عزم اور ارادے کو دہرایا ہے کہ وہ ملک میں جمہوری عمل، آئین کی حکمرانی اور عوامی نمائندگی کو ہرگز ڈی ریل یا معطل نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے ملک میں پائیدار سیاسی استحکام، یکجہتی اور معاشی نجات کے لیے تمام سیاسی دھاروں کو اپنے باہمی گلے شکوے اور تلخیاں بھلا کر یکجا ہونے کی پرخلوص دعوت دیتے ہوئے صراحت کی کہ صرف مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف کو بھی اس زوال پذیر نظام کی ازسرنو تعمیر، بحالی اور بہتری کے لیے اکٹھا ہونا پڑے گا جبکہ موجودہ منتخب حکومت اپنی آئینی و قانونی مدت پوری کرے گی اور بانی تحریک انصاف کا معاملہ تمام تر عدالتی کارروائی، آئین اور قانونی فیصلوں کے تابع ہوگا۔ انہوں نے اپنی انتظامی ذمہ داریوں، وزارت اور کابینہ کے حوالے سے میڈیا پر پھیلائی جانے والی مختلف افواہوں اور قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے یہ بھی واضح کر دیا کہ وہ بطور وفاقی وزیر داخلہ ہی ملک و قوم کی اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے اور وہ کسی دوسری وزارت یا وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالنے بالکل نہیں جا رہے۔ اس تمام تر گفتار، جامع بیانیے اور گفتگو کا اگر ایک غیر جانبدار، بے لاگ، دقیق اور خالص صحافتی نقطہ نظر سے تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں اور واضح ہوتی ہے کہ محسن نقوی نے پاکستان کے دہائیوں پر محیط سیاسی، معاشی، انتظامی اور سماجی روگ کی بالکل درست، وقت پر اور عین صحیح تشخیص تو کر دی ہے مگر اب اصل، کڑا اور تیکھا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری روایتی سیاسی قیادت، مقتدر حلقے، عدلیہ اور بیوروکریسی اس تلخ اور بھیانک حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کر کے اپنے ذاتی، حزبی، وقتی اور گروہی مفادات سے بالا تر ہوتے ہوئے کسی حقیقی، پائیدار اور متفقہ میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت پر متفق ہونے کی عملی جرأت کا مظاہرہ کریں گے یا پھر وہی روایتی مصلحت اندیشی، کھوکھلی نعرے بازی، سیاسی جوڑ توڑ اور لفظی ادکاری کے پردے میں اس گرے ہوئے، بوجھل اور ناکارہ نظام کا بوجھ مزید کچھ عرصے کے لیے زبردستی کھینچنے کی بے سود کوشش کی جائے گی جس کا حتمی نتیجہ مزید شدید معاشی انحطاط، ملکی دیوالیہ پن، قومی افلاس، عوامی غیظ و غضب، نوجوانوں کی مایوسی اور تباہ کن سماجی و سیاسی انتشار کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ تمام تر طاقت ور اور فیصلہ ساز طبقات اپنے ذاتی عناد، انا اور سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملک کی ساختی ری سیٹ اور بنیادی اصلاحات کے لیے ایک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہوں تاکہ پاکستان کو درپیش اس سنگین ترین تاریخ کے موڑ سے باوقار اور محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔
