تحریر : راجہ اظہر محمود
وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے بارے میں دیا گیا بیان ایک قومی مسئلہ کو زیر بحث لے آیا ہے جس پر کئی سالوں سے سنجیدہ بحث کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ اگر اس بیان کو محض سیاسی نعرہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا تو ایک موقع ضائع ہو گا۔ لیکن اگر اسے انتظامی اصلاحات کے آغاز کے طور لیا گیا تو پاکستان کے نظام حکمرانی میں ایک تاریخی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کی آبادی کافی بڑھ چکی ہے۔پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی آبادی دنیا کے کئی آذاد ممالک سے زیادہ ہے اتنی بڑی آبادی کو ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے تحت مؤثر انداز میں چلانا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کوانصاف،صحت،تعلیم،پولیس،ریونیو اور دیگر سرکاری خدمات تک بر وقت رسائی حاصل نہیں ہو پاتی۔ دنیا کی کامیاب ریاستوں نے ترقی کا ایک بنیادی اصول اپنایا ہے کہ اختیارات کو عوام کے قریب منتقل کیا جاۓ۔نئے صوبوں،نئے اضلاع، نئی ڈویژنوں اور مضبوط بلدیاتی اداروں کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے ریاست عوام کے دروازے تک پہنچے نہ کہ عوام ریاستی دفاتر کے چکر لگاتے رہیں۔آئین پاکستان بھی انتظامی تبدیلیوں کی گنجائش دیتا ہے تاہم نئے صوبوں کا قیام ایک آئینی عمل ہے جس کے لئے پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبے کی نمائندگی اہم کردار ادا کرتی ہے۔اسلئے اس معاملے کو سیاسی مخالفت یا حمایت کی عینک سے دیکھنے کی بجاۓ قومی مفاد اور انتظامی ضرورت اور عوامی سہولت کے تناظر میں پرکھا جاۓ۔اس بحث میں کھاریاں کا نام بھی خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔کھاریاں صرف ایک تحصیل نہیں بلکہ شمالی پنجاب کا ایک اہم دفاعی،تجارتی،تعلیمی مرکز ہے یہاں کی فوجی چھاونی ملکی دفاع میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے جبکہ برطانیہ،یورپ، ناروے، کینیڈا،خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق اسی خطے سے ہے۔اس کی ترسیلات زر قومی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔لیکن بد قسمتی سے کھاریاں بھی اس انتظامی حیثیت سے محروم ہے جس کا وہ حق دار ہے۔کھاریاں کو ضلع بنانے کا مطالبہ کسی دوسرے علاقے کے خلاف نہیں بلکہ بہتر حکمرانی اور عوامی سہولت کے حق میں ہے۔ضلع بننے کی صورت میں ڈپٹی کمشنر،ضلعی پولیس،ضلعی عدالتیں،محکمہ تعلیم،صحت اور دیگر سرکاری دفاتر مقامی سطح پر قائم ہوں گے عوام کو معمولی سرکاری کاموں کے لئے دور دراز کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔جس سے وقت اور وسائل دونوں کی بچت ہو گی۔ مزید ضلع بننے کے بعد کھاریاں کا علیحدہ بجٹ مختص ہو گا۔اس سےسڑکوں،ہسپتالوں،کالجوں،نکاسی آب،پینے کے صاف پانی، یونیورسٹی اور دیگر سہولیات کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہو گا ۔مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔اگر حکومت واقعی نئے صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے تو صوبہ پوٹھوہار کی تجویز بھی قابل غور ہے۔پوٹھوہار ایک منفرد جغرافیائی ،تاریخی اور ،ثقافتی شناخت رکھتا ہے۔اس خطے کے عوام کے مسائل و وسائل اور ترقیاتی تقاضے کئی حوالوں سے مختلف ہیں ۔اس لئے مختلف ادوار میں ” پوٹھوہار” کو الگ انتظامی اکائی بنانے کی تجویز سامنے آتی رہی ہے۔ کھاریاں کا جغرافیائی محل وقوع، ثقافتی روابط اور انتظامی سہولت کے اعتبار سے مجوزہ صوبہ پوٹھوہار کا قدرتی حصہ بن سکتا ہے۔ اگر مستقبل میں پوٹھوہار صوبہ بنتا ہے تو کھاریاں کو اس میں شامل کرنا نہ صرف منطقی ہو گا بلکہ خطے کی متوازن ترقی میں بھی معاون ثابت ہو گا البتہ ایک بات واضح رہنی چاہیئے کہ صوبے بنانا کسی بھی صورت لسانی ،سیاسی مفادات کا ذریعہ نہیں بننا چاہیئے ۔ پاکستان کی اصل طاقت اس کی وحدت اور وفاقی نظام میں ہے۔انتظامی اصلاحات کا مقصد ریاست کو مضبوط کرنا،عوام کو سہولت دینا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہونا چاہیئے ۔وفاقی وزیر داخلہ کے بیان نے امید کی نئی کرن پیدا کی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہےکہ حکومت ایک غیر جانبدار قومی کمیشن تشکیل دے جو آبادی، رقبے، معاشی استعداد، جغرافیائی محل وقوع اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر نئے صوبوں،اضلاع اور انتظامی یونٹس کے لئے واضح سفارشات مرتب کرے۔ کھاریاں کے عوام کا مطالبہ جمہوری اصولوں کے مطابق اور انتظامی ضرورت پر مبنی ہے اگر حکومت واقعی عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے تو کھاریاں کو ضلع بنانے کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور اگر مستقبل میں صوبہ پوٹھوہار وجود میں آتا ہے تو کھاریاں کو اس کا حصہ بنایا جانا چاہیئے ۔ پاکستان کی مضبوطی کا راستہ بہتر حکمرانی سے ہو کر گزرتا ہے اور بہتر حکمرانی کا آغاز مضبوط انتظامی ڈھانچے سے ہوتا ہے اب وقت آگیا ہے کہ فیصلے سیاسی مصلحتوں کی بجائے قومی مفاد کی بنیاد پر کئے جائیں تاکہ علاقے کو اس جائز حق ملے اور پاکستان ایک زیادہ موثر، متوازن اور عوام دوست ریاست کے طور پر آگے بڑھے
نئے صوبوں کی بحث ، انتظامی اصلاحات اور کھاریاں کا مقدمہ
