اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور نئے انتظامی یونٹ یا صوبے ہی اس تمام مسئلے کا واحد حل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں عام طور پر سیاسی تقریر سے گریز کرتا ہوں لیکن آج مجھ سے کچھ تلخ حقائق بیان کرنا پڑ رہے ہیں کیونکہ موجودہ نظام گر چکا ہے اور اس میں رہ کر عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی نظام چلتا رہا تو آج سے دس سال بعد بھی ہم سب یہیں بیٹھ کر انہی مسائل پر بحث کر رہے ہوں گے، اور جب تک ملک کی بنیادی چیزوں کو درست نہیں کیا جاتا بحران برقرار رہیں گے۔
محسن نقوی نے زور دیا کہ ہمیں ایڈمنسٹریٹو یونٹس یا نئے صوبوں کی تشکیل کی طرف لازمی جانا ہوگا، اور جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز ساتھ نہیں بیٹھیں گے ملک کا نظام اسی طرح چلتا رہے گا، اس لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا معاملہ اب براہِ راست عوام کے پاس لے جانا ہوگا۔ انہوں نے نوجوانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان اپنا حق اور میرٹ پر ملازمتیں مانگ رہے ہیں، اور اگر یہ نوجوان اکٹھے ہوگئے تو ہر چیز کو الٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کون سا ایسا گھر ہے جو مہینہ شروع ہوتے ہی لاکھوں روپے کا مقروض ہو اور پھر بھی چلایا جا سکے؟ ہم اپنا بجٹ ہی اس منفی بنیاد پر بناتے ہیں کہ اس سال کتنے قرضے کی ادائیگی کرنی ہے اور مزید کتنا قرضہ لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف چاہے 18 گھنٹے بھی کام کر لیں لیکن وہ اس وقت صرف فائر فائٹنگ ہی کر رہے ہیں، اور جب تک اس پورے سسٹم کو ری سیٹ نہیں کیا جاتا بہتری کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔
بعد ازاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جب تک سیاستدان خود ملک کا نظام ٹھیک نہیں کرتے، اس وقت تک کسی کی بھی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ میں کسی صدارتی نظام کی بات نہیں کر رہا، اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہوگا، جس میں صرف ن لیگ اور پیپلز پارٹی نہیں بلکہ تحریکِ انصاف کو بھی شامل ہونا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی جبکہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے، اور آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ کے منصب پر ہی فائز رہیں گے اور وزارتِ خارجہ نہیں جا رہے۔





