جولائی 31, 2026

بلاول بھٹو کی ن لیگ کو سخت تنبیہ: آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ چوری کرنے یا دھاندلی کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو لکھ لیں کہ اس کے بعد وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ن لیگ آزاد کشمیر میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے، اگر ایسا کیا گیا تو ان کی وفاقی حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، لیکن پیپلز پارٹی اپنے مینڈیٹ کا بھرپور تحفظ کرنا جانتی ہے اور اپنا حق چھیننا بھی بخوبی جانتی ہے۔

بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ کشمیر کا فیصلہ وہاں کے غیور عوام کا بنیادی حق ہے اور بیلٹ کے ذریعے ہی تمام فیصلے ہونے چاہئیں نہ کہ بلٹ کے ذریعے۔ انہوں نے بتایا کہ مہاجرین کی حقیقی نمائندگی کو ہر صورت محفوظ رکھا جانا چاہیے کیونکہ کشمیری مہاجرین ہمارے وجود، تاریخ اور تحریک کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ کشمیر کے تمام دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ایک ٹرتھ کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ کشمیریوں کو ان کے جائز حقوق بروقت اور باوقار طریقے سے مل سکیں۔

مظفرآباد کے عوام سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے رہنماؤں نے اس الیکشن کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا رکھا ہے اور وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ آزاد کشمیر میں شکست کا مطلب وفاق میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہے، اسی لیے وہ اس حوالے سے شدید خوفزدہ ہیں۔ بلاول نے ن لیگ کو للکارتے ہوئے کہا کہ اگر میرا مینڈیٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی تو میں براہ راست آپ کے تخت کے خلاف باہر نکل آؤں گا، ہم روایتی سیاست دان نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے وہ جیالے ہیں جنہوں نے ماضی میں ضیا الحق اور پرویز مشرف جیسے آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور اب ہم ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

اپنے خطاب کے آخر میں بلاول بھٹو نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مشورہ دیا کہ وہ اب بائیکاٹ کی فرسودہ سیاست کو ہمیشہ کے لیے ختم کریں اور سنجیدہ سیاست کا آغاز کرتے ہوئے پارلیمنٹ، کمیٹیوں اور ہر انتخابی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ انہوں نے تحریک انصاف کے کارکنان کو دعوت دی کہ وہ اس بائیکاٹ کی سیاست کو چھوڑ کر میدان میں آئیں کیونکہ ہم خود انتخابات میں ہونے والی دھاندلی اور ناانصافیوں سے سخت تنگ آ چکے ہیں، لہذا جو بھی سیاسی کارکن اپنا فیصلہ خود کرنے کی آزادی چاہتا ہے وہ بلا جھجھک آگے بڑھے اور اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دے۔