از قلم: فیصل جنجوعہ
آج کا انسان ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ وہ دنیا کے چند سال سنوارنے کے لیے پوری زندگی لگا دیتا ہے، مگر ہمیشہ کی زندگی، یعنی آخرت، کی تیاری کو کل پر ٹالتا رہتا ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس کی طرف حضرت حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے نہایت مختصر مگر مؤثر انداز میں توجہ دلائی کہ "دنیا کمانے میں تو بڑھاپا آ جاتا ہے، اور آخرت کے لیے عمل کرتے وقت نوجوانی لگ جاتی ہے۔” آج ہم دیکھتے ہیں کہ روزگار کے لیے صبح سے رات تک محنت، اضافی ڈگریاں، نئے کورسز اور کاروبار کی منصوبہ بندی تو جاری رہتی ہے، لیکن نماز، قرآن، والدین کی خدمت، صلہ رحمی اور معاشرے کی بھلائی کے لیے وقت نکالنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ ہم دنیا کی سرمایہ کاری کو عقل مندی کہتے ہیں، مگر آخرت کی سرمایہ کاری کو اکثر بڑھاپے تک مؤخر کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موت نہ عمر دیکھتی ہے، نہ دولت اور نہ ہی منصوبے۔ قبر میں انسان کے عہدے، بینک بیلنس یا شہرت نہیں، بلکہ اس کے اعمال ساتھ جاتے ہیں۔ افسوس کہ ہم اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اپنی ترجیحات تبدیل نہیں کرتے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دنیا اور آخرت کے درمیان توازن پیدا کریں۔ اسلام دنیا سے فرار نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت سنوارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ رزقِ حلال کمائیں، ترقی کریں، مگر اپنے رب کو نہ بھولیں، کیونکہ دنیا ایک امتحان ہے، منزل نہیں۔ دنیا کے لیے جینا دانش مندی ہو سکتی ہے، لیکن آخرت کے لیے جینا حقیقی کامیابی ہے۔ جو انسان اپنی ترجیحات درست کر لیتا ہے، وہ صرف کامیاب نہیں بلکہ کامران بھی بن جاتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جسے ہمیں اپنی زندگی، اپنی نسل اور اپنے معاشرے تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
