جولائی 29, 2026

عمران خان ریلیز فورس کا تنازع: پارٹی کے اندرونی اختلافات اور نئی سیاسی حکمت عملی کا پس منظر

اسلام آباد: اگرچہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آئینی عدالت کو بتایا ہے کہ مجوزہ ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ کبھی تشکیل ہی نہیں دی گئی، تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ اس فورس کے قیام کیلئے سرگرم انداز میں کوشش کرنے والوں میں شامل تھے۔ اس اقدام کو پی ٹی آئی کی قیادت کے ایک حلقے کی بھرپور حمایت حاصل تھی، لیکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے نہ تو اس مجوزہ تنظیم کی منظوری دی اور نہ ہی اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اجازت دی، جس کے باعث یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ کے پی اس فورس کے قیام کیلئے پُرعزم تھے اور انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی مہم کے سلسلے میں رضاکاروں کو منظم کرنے، ان کی رجسٹریشن اور حلف لینے کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم، چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح موقف اپنایا کہ اس نوعیت کی فورس کا قیام غیر آئینی اور غیر قانونی ہوگا، اور اگر اسے باضابطہ طور پر تشکیل دیا گیا تو پارٹی کو سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور عسکریت پسندی جیسے الزامات بھی عائد ہو سکتے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت دوبارہ اہمیت اختیار کر گیا جب وزیراعلیٰ نے عدالت کو بتایا کہ یہ فورس کبھی نہیں بنی، جو کہ تکنیکی طور پر درست ہے کیونکہ یہ صرف ایک مجوزہ منصوبے کی حد تک محدود رہی تھی۔ یہ تنازع پہلی مرتبہ چند ماہ قبل سامنے آیا تھا جب حامیوں کو متحرک کرنے کیلئے خصوصی فورس بنانے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن پارٹی کے اندر شدید اعتراضات کے بعد اس خیال کو ترک کر کے اس کی جگہ ایک وسیع تر سیاسی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو تمام حامیوں کیلئے کھلی ہو اور کسی بھی متوازی تنظیمی ساخت سے گریز کیا جائے۔ اس کے علاوہ پارٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ آئندہ کسی بھی احتجاجی یا عوامی تحریک کے آغاز اور اس کے وقت کا فیصلہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نہیں کریں گے، بلکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے۔ پی ٹی آئی کے اندر اس منصوبے کے خاتمے کو اس بات کے طور پر دیکھا گیا کہ پارٹی کی معتدل قیادت کو سخت گیر عناصر پر برتری حاصل ہو گئی ہے۔