جولائی 29, 2026

سچ کی کوئی عمر نہیں ہوتی

از قلم: فیصل جنجوعہ

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں اکثر سچ بولنے سے پہلے بولنے والے کی عمر، عہدہ، تعلق اور حیثیت دیکھی جاتی ہے۔ اگر بات کسی بزرگ، بااثر شخصیت یا صاحبِ اختیار کے خلاف ہو تو دلیل کم اور جذبات زیادہ سامنے آتے ہیں۔ یوں حق اور باطل کا فیصلہ اصولوں سے نہیں بلکہ شخصیات کے ترازو میں ہونے لگتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام اور ہماری مشرقی روایات بزرگوں کے احترام کا درس دیتی ہیں، مگر کہیں بھی یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ غلط بات کو صرف اس لیے درست مان لیا جائے کہ کہنے والا عمر یا عہدے میں بڑا ہے۔ احترام اپنی جگہ ایک اخلاقی فریضہ ہے، لیکن حق بات کہنا بھی ایک دینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ دونوں میں توازن ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے شخصیت پر حملے کیے جاتے ہیں۔ نوجوانوں کو خاموش رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور سوال کرنے والوں کو بدتمیز قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی رویہ اداروں کو کمزور، معاشروں کو جمود کا شکار اور قوموں کو پسماندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تبدیلیاں اکثر اُن لوگوں نے پیدا کیں جنہوں نے رائج غلطیوں پر سوال اٹھایا۔ اگر ہر نئی آواز کو صرف عمر کی بنیاد پر دبا دیا جاتا تو نہ علم آگے بڑھتا، نہ تحقیق ہوتی اور نہ ہی معاشرے ترقی کرتے۔ اصل عظمت اس میں نہیں کہ انسان ہمیشہ اپنی بات منوا لے، بلکہ اس میں ہے کہ اگر سچ کسی چھوٹے کی زبان سے بھی سنائی دے تو اسے قبول کرنے کا حوصلہ رکھے۔ اسی طرح نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلاف کو بدتمیزی نہیں بلکہ دلیل، شائستگی اور اخلاق کے ساتھ پیش کریں۔
ایک زندہ قوم وہی ہوتی ہے جہاں شخصیات سے زیادہ اصولوں کی عزت ہو، جہاں فیصلے تعلقات سے نہیں بلکہ انصاف سے ہوں، اور جہاں گفتگو کا معیار بولنے والے کی عمر نہیں بلکہ اس کی بات کی سچائی ہو۔ کیونکہ سچ کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی؛ وقت خود اس کی گواہی دیتا ہے۔