جولائی 27, 2026

حیدرِ کرار سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ — شجاعت، وفاداری اور اطاعت رسول ﷺ کا تابندہ مینار (حصہ دوم ، آخری حصہ)

تحریر: سعد محمد مدنی (فاضل مدینہ یونیورسٹی مدینہ منورہ)

غزوۂ خیبر کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عظمت کا ایک اور روشن باب غزوۂ تبوک کے موقع پر سامنے آتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے روانہ ہوئے تو آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا۔ بعض منافقین نے اس پر طعن کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو قیامت تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کی گواہی دیتا رہے گا:

“کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت حاصل ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”
(صحیح بخاری: ٣٧٠٦، صحیح مسلم: ٢٤٠٤)

اس ایک جملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قربت، اعتماد اور نیابت کو واضح فرمایا، اور ساتھ ہی ختمِ نبوت کا عقیدہ بھی ہمیشہ کے لیے بیان فرما دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معیار مقرر فرمایا، وہ بھی ایمان کی پہچان بن گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں:

“اس ذات کی قسم جس نے دانہ چیر کر اگایا اور جان پیدا فرمائی! نبی اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا تھا کہ مجھ سے صرف مومن محبت کرے گا اور مجھ سے صرف منافق بغض رکھے گا۔”
(صحیح مسلم: ٧٨)

یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت ایمان کا تقاضا ہے۔ البتہ اہلِ سنت والجماعت اس محبت میں غلو نہیں کرتے بلکہ اسے قرآن و سنت کے دائرے میں رکھتے ہیں، اور جس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں، اسی طرح تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کو بھی ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔

اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیثِ کساء میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو اپنی چادر کے نیچے جمع فرمایا اور اللہ تعالیٰ سے ان کی پاکیزگی کی دعا کی۔
(صحیح مسلم: ٢٤٢٤)

یہ حدیث اہلِ بیتِ نبوی کی عظمت اور فضیلت کی واضح دلیل ہے، اور اہلِ سنت کے نزدیک اہلِ بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ صرف میدانِ جنگ کے شہسوار نہیں تھے بلکہ علم و حکمت کے بھی امین تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر انہیں اہم ذمہ داریاں سونپیں۔ آپ نے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا، جہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں عمر میں جوان ہوں اور قضا کے معاملات کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھا اور دعا فرمائی:

“اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت عطا فرما اور اس کی زبان کو ثابت رکھ۔”

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس دعا کے بعد دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کبھی تردد نہیں ہوا۔
(صحیح مسلم: ١٣٣٧)

یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم، فہم اور عدل کی ذمہ داریاں بھی سونپیں، اور وہ ان پر پورا اترے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام میں عظمت کا معیار نسب، دولت یا اقتدار نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ، علم، اخلاص اور اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ وہ میدانِ بدر، اُحد، خندق، خیبر اور حنین کے بہادر سپہ سالار بھی تھے، اور عبادت، عدل، زہد، حلم اور تقویٰ کے پیکر بھی۔

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ نہایت واضح اور متوازن ہے۔ ہم سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم اجمعین، چاروں خلفائے راشدین سے محبت رکھتے ہیں، ان کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلافات میں زبان کو آلودہ کرنے کے بجائے قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق احترام اور سکوت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی منہج صحابۂ کرام، تابعین، ائمۂ حدیث اور سلفِ صالحین کا منہج ہے۔

آج امتِ مسلمہ کو اگر اپنے ماضی کی عظمت دوبارہ حاصل کرنی ہے تو اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی سے شجاعت، امانت، عدل، تقویٰ، حلم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر متزلزل محبت کا سبق سیکھنا ہوگا۔ وہ صرف ایک عظیم سپہ سالار نہیں تھے بلکہ ایک کامل مسلمان، عادل حکمران، سچے عابد، باعمل عالم اور وفادار صحابی تھے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جنہوں نے انہیں تاریخِ اسلام کے آسمان پر ہمیشہ کے لیے “حیدرِ کرار” بنا دیا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے سچی محبت، ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کے پاکیزہ کردار کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔