امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے شہر نطنز کے پہاڑوں میں واقع ایٹمی مرکز پر جلد حملے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی اس حملے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکیں گے اور امریکی کارروائیوں نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو انتہائی حد تک کم کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر سابق صدر اوباما کی نیوکلیئر ڈیل ختم نہ کی جاتی اور گزشتہ سال امریکی بی ٹو بمبار طیارے ایرانی نیوکلیئر سائٹس کو نشانہ نہ بناتے تو آج اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کا وجود باقی نہ ہوتا۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا سے ملاقات کا خواہاں ہے لیکن امریکا کی ایسی کوئی خواہش نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کی دھمکیاں دے کر نومبر کے امریکی کانگریس انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امکانات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس سے انتخابی نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔





