وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے سرکاری یونیورسٹی کے مرد رجسٹرار کو مبینہ طور پر ہراساں اور بلیک میل کرنے کے کیس میں خاتون افسر کی تنزلی کی سزا برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہراسیت کا قانون صرف جنسی نوعیت کے واقعات تک محدود نہیں بلکہ دباؤ اور خوف کا ماحول پیدا کرنا بھی اس کے زمرے میں آتا ہے۔ فیصلے کے مطابق خاتون افسر نے رجسٹرار کے ساتھ سیلفی لینے کی خواہش ظاہر کی اور من پسند تقرری نہ ہونے پر ویڈیوز جاری کرنے اور جھوٹی شکایات کی دھمکیاں دیں، جبکہ خطرہ محسوس کرنے پر رجسٹرار نے گفتگو خفیہ ریکارڈ کی اور خاتون نے ریکارڈنگ سامنے آنے پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معذرت نامے بھی جمع کرائے تھے۔
یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی نے خاتون افسر کو قصوروار قرار دیتے ہوئے تنزلی، ترقی پر پابندی اور انتظامی عہدے سے محرومی کی سزا دی تھی جس کے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی محتسب نے ترقی اور تقرری پر لگائی گئی تاحیات پابندیاں تو ختم کر دیں لیکن تنزلی کی بنیادی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ محتسب کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز میں قانون کا بنیادی مقصد دباؤ اور خوف کی فضا کا خاتمہ کرنا ہے تاکہ سرکاری امور بلا خوف و خطر انجام دیے جا سکیں۔



