ستمبر 11, 2026

وفاقی محتسب نے مرد رجسٹرار کو ہراساں کرنے کے کیس میں خاتون افسر کی تنزلی کی سزا برقرار رکھی

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے سرکاری یونیورسٹی کے مرد رجسٹرار کو مبینہ طور پر ہراساں اور بلیک میل کرنے کے کیس میں خاتون افسر کی تنزلی کی سزا برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہراسیت کا قانون صرف جنسی نوعیت کے واقعات تک محدود نہیں بلکہ دباؤ اور خوف کا ماحول پیدا کرنا بھی اس کے زمرے میں آتا ہے۔ فیصلے کے مطابق خاتون افسر نے رجسٹرار کے ساتھ سیلفی لینے کی خواہش ظاہر کی اور من پسند تقرری نہ ہونے پر ویڈیوز جاری کرنے اور جھوٹی شکایات کی دھمکیاں دیں، جبکہ خطرہ محسوس کرنے پر رجسٹرار نے گفتگو خفیہ ریکارڈ کی اور خاتون نے ریکارڈنگ سامنے آنے پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معذرت نامے بھی جمع کرائے تھے۔

یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی نے خاتون افسر کو قصوروار قرار دیتے ہوئے تنزلی، ترقی پر پابندی اور انتظامی عہدے سے محرومی کی سزا دی تھی جس کے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی محتسب نے ترقی اور تقرری پر لگائی گئی تاحیات پابندیاں تو ختم کر دیں لیکن تنزلی کی بنیادی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ محتسب کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز میں قانون کا بنیادی مقصد دباؤ اور خوف کی فضا کا خاتمہ کرنا ہے تاکہ سرکاری امور بلا خوف و خطر انجام دیے جا سکیں۔