تحریر : راجہ اظہر محمود
پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا اور گنجان آباد صوبہ ہے جہاں انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لئے اضلاع کی تقسیم نہایت اہمیت رکھتی ہے اس وقت پنجاب کے 45 اضلاع موجود ہیں مگر آبادی میں مسلسل اضافہ ، شہری پھیلاؤ ، اور عوامی ضروریات کے پیش نظر مزید اضلاع کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے انہیں حالات کے تناظر میں کھاریاں کو ضلع بنانے کا مطالبہ ایک مضبوط ، جائز اور عوامی آواز بن کر سامنے آیا ہے۔کھاریاں پنجاب کی اہم تحصیل ہے جو ضلع گجرات میں واقع ہے جو اپنی آبادی،معاشی سر گرمیوں اور جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے کئی موجودہ اضلاع سے کسی طور کم نہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کھاریاں کی آبادی پنجاب کے کم از کم بارہ اضلاع سے زیادہ ہے اس کے باوجود اسے تاحال ضلع کا درجہ نہیں دیا گیا اس صورتحال نے مقامی عوام میں احساس محرومی کو جنم دیا ہے جو اب ایک منظم مطالبے کی شکل اختیار کر چکا ہے سب سے پہلی اور بنیادی وجہ جس کی بنیاد پر کھاریاں کو ضلع بنایا جانا چاہیئے وہ اس کی بڑی آبادی ہے کسی بھی علاقے کو ضلع بنانے کے لئے آبادی ایک اہم معیار ہوتا ہے۔تاکہ انتظامی امور بہتر انداز میں سر انجام دیے جا سکیں جب ایک تحصیل کی آبادی کئی اضلاع سے زیادہ ہو تو وہاں انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا نہ صرف منطقی بلکہ ضروری ہو جاتا ہے ۔دوسری اہم وجہ ترقیاتی کاموں کی منصفانہ تقسیم ہے جب کھاریاں ضلع گجرات کا حصہ ہے تو ترقیاتی بجٹ پورے ضلع میں تقسیم ہوتا ہے جس کے باعث کھاریاں کو اس کا جائز حصہ نہیں مل پاتا اگر کھاریاں کو علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا جائے تو اس کا علیحدہ ترقیاتی بجٹ ہو گا جس سے سڑکوں ،سیوریج، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات میں واضح بہتری آئے گی اس سے نہ صرف علاقے کی ترقی ممکن ہو گی بلکہ عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہو گا ۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہتری بھی ایک اہم پہلو ہے کھاریاں سرائے عالمگیر اور اس کے نواحی علاقوں میں تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے ضلع کا درجہ ملنے کے بعد یہاں مزید کالجز، یونیورسٹی، میڈیکل کالج،ٹیکنیکل کالج اور دیگر طبی سہولیات قائم کی جا سکتی ہیں اس سے طلبہ وطالبات کو بہتر اور گھر کی دہلیز پر تعلیم میسر آئے گی اور مریضوں کو دور دراز شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ عدالتی اور انتظامی سہولیات بھی اس مطالبے کا ایک مضبوط جواز ہے۔اس وقت کھاریاں سرائے عالمگیر کے عوام کو اپنے قانونی اور دفتری معاملات کے لئے گجرات یا دیگر شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے جس میں وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوتا ہے اگر کھاریاں ضلع بن جائے تو ڈپٹی کمشنر آفس،ڈسٹرکٹ کورٹ،پولیس اور دیگر سرکاری دفاتر مقامی سطح پر دستیاب ہوں گے جس سے عوام کو فوری سستا انصاف ملے گا۔سفری مشکلات بھی اس مطالبے کی ایک بڑی وجہ ہے دیہی علاقوں جن میں کوٹلہ، چڑیاولہ، ٹھوٹھہ رائے بہادر، پوران ،کھوہار ،بیسہ بلانی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے معمولی کاموں کےلئے بھی لمبا سفر کرنا پڑتا ہے اس سےنہ صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ سفری اخراجات میں اضافے کا سبب بنتا ہے جو عام آدمی کے لئے ایک بوجھ ہے کھاریاں کو ضلع بنانے سے یہ تمام مسائل کافی حد تک کم ہو جائیں گے ۔معاشی لحاظ سے بھی کھاریاں ایک مضبوط علاقہ ہے یہاں کےلوگ بیرون ملک مقیم ہیں جو کثیر زر مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں اس کے علاوہ مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیاں بھی جاری ہیں جس میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کا کاروبار سر فہرست ہے اگر حکومت کھاریاں کو ضلع کا درجہ دے تو یہاں مزید سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں ۔ کھاریاں میں انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام بھی بہت ضروری ہے جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور معیشت مضبوط ہو گی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب اور پاکستان کے دیگر حصوں میں نئی انتظامی اکائیاں بنائی گئی ہیں تاکہ عوامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کیا جا سکے اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے "کھاریاں” کو بھی ضلع بنایا جاۓ یہ ایک مثبت قدم ہو گا اس سے نہ صرف مقامی عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ حکومتی کارکردگی بھی بہتر ہو گی آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ کھاریاں ضلع بنانے کا مطالبہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوۓ فیصلہ کرے” کھاریاں” کو ضلع کا درجہ دینا علاقے کی ترقی ، عوامی خوشحالی اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے اگر حکومت واقعی عوامی فلاح و بہبود کی خواہاں ہے تو اسے ” کھاریاں” کے عوام کی اس جائز آواز کو سننا ہو گا اور عملی جامہ پہنانا ہو گا تاکہ ایک ترقی یافتہ ،خوشحال اور خودمختار کھاریاں کا خواب حقیقت بن سکے۔ کھاریاں سرائے عالمگیر کی سیاسی قیادت کو بھی عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوۓ اقتدار کے ایوانوں میں اس مطالبے کو منوانے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا ہو گا ۔
