ستمبر 12, 2026

تعلیم حق ہے، کاروبار نہیں

تحریر: فیصل جنجوعہ

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کی بنیادی شرط ہے۔ آئینِ پاکستان ہر بچے کو تعلیم کا حق دیتا ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی معیاری تعلیم لاکھوں بچوں کی پہنچ سے دور ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تعلیم کو رفتہ رفتہ ایک سماجی خدمت کے بجائے منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ آج کئی تعلیمی اداروں میں علم سے زیادہ فیسوں، داخلہ مہمات، برانڈنگ اور ظاہری چمک دمک کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ والدین کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف عنوانات کے تحت اضافی اخراجات وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ کئی جگہوں پر تعلیمی معیار، اساتذہ کی تربیت اور کردار سازی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ اگر تعلیم صرف منافع کمانے کا ذریعہ بن جائے تو اس کا اصل مقصد ختم ہو جاتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام نجی تعلیمی اداروں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا ناانصافی ہوگی۔ پاکستان میں ہزاروں ایسے نجی اسکول موجود ہیں جو محدود وسائل کے باوجود معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں، اساتذہ کو روزگار دے رہے ہیں اور معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ ان اداروں سے ہے جو تعلیم کو صرف تجارتی سرگرمی سمجھتے ہیں ریاست کی ذمہ داری صرف قوانین بنانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد بھی ہے۔ اگر فیسوں، معیارِ تعلیم، اساتذہ کے حقوق اور طلبہ کے مفادات کے حوالے سے شفاف نظام موجود ہو تو نہ والدین استحصال کا شکار ہوں گے اور نہ ہی اچھے تعلیمی ادارے غیر ضروری دباؤ کا سامنا کریں گے۔ اسی طرح والدین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ بہترین تعلیم صرف فیس ادا کرنے سے نہیں ملتی۔ بچے کی کامیابی میں گھر کا ماحول، اخلاقی تربیت، مطالعے کی عادت اور والدین کی دلچسپی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی اسکول کی تعلیم۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم تعلیم کو دوبارہ اس کا اصل مقام دیں۔ اسکول صرف امتحان پاس کرانے کی فیکٹریاں نہیں بلکہ کردار، شعور، تحقیق، برداشت اور ذمہ داری پیدا کرنے کے مراکز ہونے چاہییں۔ اگر آج بھی تعلیم کو صرف خرید و فروخت کی چیز سمجھا جاتا رہا تو ہم ڈگری یافتہ افراد تو پیدا کر لیں گے، مگر باشعور اور باکردار قوم نہیں بنا سکیں گے۔
تعلیم پر سرمایہ کاری ضرور ہونی چاہیے، لیکن تعلیم کی تجارت نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ تعلیم ایک حق ہے، رعایت نہیں؛ ایک ذمہ داری ہے، کاروبار نہیں۔