امریکا کی نئی پابندیاں، ایرانی، روسی اور میکسیکن افراد و تنظیمیں ہدف

امریکا نے جوہری پھیلاؤ کی روک تھام اور انسدادِ دہشتگردی کے نام پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے، جن میں ایران، روس اور میکسیکو سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات اور تنظیمیں شامل ہیں۔ نئی پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک بہروز نمازی اور ان کی کمپنی بھی شامل ہے، جبکہ اس سے قبل امریکا ایران کی شپنگ انڈسٹری سے وابستہ 50 افراد، کمپنیوں اور بحری جہازوں کو بھی اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔

امریکی حکام نے ایران کے مرکزی بینک سے منسلک 13 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے بھی منجمد کر دیے ہیں۔ یہ اقدامات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے خلاف واشنگٹن کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کا حصہ قرار دیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد ایران کی مالی و فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔

Exit mobile version