تحریر: فیصل جنجوعہ
اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ کامیابی کا سب سے مؤثر فارمولا کیا ہے تو میرا جواب ہوگا: "ذمہ داری کا دباؤ (Pressure)”۔ زندگی میں میں نے ایسے بے شمار افراد دیکھے ہیں جنہیں لوگ ناکارہ، سست یا غیر سنجیدہ سمجھتے تھے، لیکن جیسے ہی حالات نے انہیں دیوار سے لگا دیا، وہی لوگ اپنی توقع سے کہیں بڑھ کر کارکردگی دکھانے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی بہت سی صلاحیتیں آرام کی حالت میں نہیں بلکہ آزمائش کے وقت سامنے آتی ہیں۔ آخری تاریخ قریب ہو، امتحان سر پر ہو، گھر کی ذمہ داریاں بڑھ جائیں یا نوکری خطرے میں ہو، تو اکثر وہی انسان اپنی پوری توانائی اور ذہانت استعمال کرتا ہے جسے پہلے "نکمّا” کہا جاتا تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کو مشکلات سے بچانے کو اچھی تربیت سمجھا جاتا ہے۔ والدین ہر رکاوٹ خود دور کر دیتے ہیں، اساتذہ ہر کام آسان بنا دیتے ہیں اور ادارے جواب دہی کے بجائے رعایت کو ترجیح دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان حقیقی زندگی کے دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ لیکن اس حقیقت کا دوسرا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر دباؤ تعمیری نہیں ہوتا۔ ایسا دباؤ جو انسان کی عزتِ نفس مجروح کرے، اس کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچائے یا اسے مسلسل خوف میں مبتلا رکھے، وہ صلاحیتیں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں دبا دیتا ہے۔ اس لیے دباؤ کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
تعلیم، تربیت، گھر اور دفتر—ہر جگہ ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں نظم و ضبط، واضح اہداف، احتساب اور حوصلہ افزائی ساتھ ساتھ چلیں۔ یہی متوازن دباؤ افراد کو مضبوط بناتا ہے، نہ کہ بے جا سختی یا مستقل نرمی۔ آرام انسان کو وقتی سکون دیتا ہے، لیکن ذمہ داری کا دباؤ اکثر اس کی پوشیدہ صلاحیتوں کو جگا دیتا ہے۔ کامیاب معاشرے وہ ہیں جو لوگوں کو سہولت ضرور دیتے ہیں، مگر جواب دہی سے آزاد نہیں کرتے۔ کیونکہ اکثر ہیرے آرام گاہوں میں نہیں، بلکہ دباؤ کی کانوں میں تراشے جاتے ہیں۔
