بہاولنگر چک مدرسہ ٹبہ سلطان: مسجد عثمان غنی کی زمین پر قبضہ

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشرتی ناانصافی حد سے بڑھ جائے تو اخلاقیات کا جنازہ نکل جاتا ہے، مگر جب معاملہ اللہ کے گھر یعنی مسجد کی زمین پر قبضے کا ہو تو یہ محض اراضی کا تنازع نہیں بلکہ ایمان اور غیرت کا ایک اعلانیہ امتحان بن جاتا ہے۔ ضلع بہاولنگر کے ٹبہ سلطان چک، مدرسہ چشتیاں میں قائم مسجد عثمان غنی کا کل رقبہ 10 مرلہ ہے جس کی 3 مرلہ وقف زمین پر محمد امجد ولد یار محمد نے ڈھٹائی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے۔ اس مکروہ عمل میں اسے لاہور ہائی کورٹ کے کلرک محمد علی ولد منظور احمد کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، جبکہ مقامی پٹواری وقار افضل کا گھناؤنا گٹھ جوڑ اس قبضے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ 1971 سے قائم یہ مسجد آج ایک ایسے سفاک مافیا کے شکنجے میں ہے جس کے سر پر طاقتور عہدیداروں کا ہاتھ ہے۔ یہ لوگ جو مسجد کی مقدس زمین کو اپنی جاگیر سمجھے بیٹھے ہیں، کیا یہ بھول چکے ہیں کہ ایک دن انہیں اسی زمین کے نیچے جانا ہے؟ کیا ان کی آنکھوں پر ہوسِ زر کی ایسی پٹی بندھ چکی ہے کہ انہیں اللہ کی گرفت کا خوف نہیں رہا؟ یہ سفاک عناصر اپنی عارضی دنیا کو سنوارنے کی خاطر آخرت برباد کر رہے ہیں؛ کیا یہ اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں اپنے انجام کی فکر نہیں؟ یہ ظلم اب ناقابلِ برداشت حدوں کو پار کر چکا ہے۔ مسجد کے متولی کی جانب سے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مسلسل ملاقاتوں اور دہائیوں کے باوجود کسی بھی سطح پر کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکل سکا، جو کہ ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک شرمناک سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ قبضہ کس نے کیا، بلکہ سوال یہ ہے کہ اسے برقرار رکھنے کی طاقت انہیں کہاں سے مل رہی ہے؟ اس طاقت کے سرچشمے کو توڑنا اب ضلعی انتظامیہ کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ، آپ اکثر "انصاف کی فراہمی” کے دعوے کرتی ہیں؛ کیا آپ کی انتظامی مشینری میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ اس مافیا کی نجاست سے اللہ کے گھر کو پاک کر سکے؟ ہم حکامِ بالا سے دو ٹوک مطالبہ کرتے ہیں کہ قانون کا ڈنڈا صرف کمزوروں کے لیے نہیں بلکہ محمد امجد، محمد علی اور ان کے سہولت کار پٹواری جیسے غاصبوں کے لیے بھی حرکت میں آنا چاہیے۔ خدارا! ہوش کے ناخن لیں، اس سے پہلے کہ اہل علاقہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو اور حالات تصادم کی طرف جائیں، اپنے اختیارات کا استعمال کریں اور ان قبضہ گیروں کو آہنی ہاتھوں سے کچل دیں۔ اللہ اس مسجد اور اس کے محافظوں کو اس کٹھن آزمائش سے سرخرو فرمائے اور زمینِ پاکستان کو ان قبضہ گیروں کے وجود سے پاک کرے۔ آمین

Exit mobile version