کالمکار: جاوید صدیقی
سندھ میں بڑے بڑے روحانی خاندان موجود ہیں بیشتر علوم و فیوض، تہذیب و افکار اور انسانیت کے بہترین مقام پر فائز بھی ہیں ان میں ایسے بے تحاشہ خاندان ہیں جو قبل از سندھ میں قیام پزیر تھے جنکی خدا ترسی، رکھ رکھاؤ، ملنساری و عاجزی کے سبب سندھ فقیر و درویش کی آمجگاہ سمجھا جاتا تھا وہیں صوفی بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کا نام سر فہرست آتا ھے جنھوں نے اپنی روحانی شاعری سے مقامی سندھیوں کے دل نور سے منور کردیئے تھے۔ مسلم نوجوان عرب سپہ سالار محمد بن قاسم ؒ نے یہاں آکر راجہ ڈاہر کے ناپاک اور کفار ریاست سے آزادی دیکر اسلام کا چراغ روشن کیا۔ محمد بن قاسم کے بیشتر لشکر کے مجاھد یہیں بس گئے جن میں سید، صدیقی، فاروقی، عثمانی، علوی، قریشی، ہاشمی وغیرہ وغیرہ کی نسل سے تھے جنکی مزید نسلیں پھر پھیلتی چلی گئیں۔ پاکستان بنتے وقت بھی انہیں خاندانوں نے قائداعظم کا بھرپور ساتھ دیا ان میں جی ایم سید کا نام بھی سر فہرست ھے۔ جی ایم سید نے اپنی حیاتی میں کبھی بھی بھٹو کی سیاسی عزائم کو قبول نہیں کیا۔ بھٹو نے اپنے اقتدار کی طوالت اور مضبوطی یعنی تخت و تاج کیلئے دین پرستی کے بجائے قوم پرستی پر مکمل فوکس رکھا اسی سبب تمام قوانین شرعی ھوں یا احکامات الہٰی سب کو روندتے ہوئے اپنے احکامات کو قرآن و احادیث سے زیادہ فوقیت دی۔ بھٹو نے سادہ لوح، شریف النفس، محبت و پیار کرنے والی سندھی قوم میں لسانیت، عصبیت، تعصب کا ذہر انڈیل دیا۔ بھٹو نے لالچ اور دنیاوی مفادات میں ایسا دھوکہ دیا کہ قوم بہک گئی اور پاکستان بلخصوص سندھ میں کوٹہ سسٹم لگا کر غیر اسلامی، غیر انسانی، غیر مہذب، غیر شریعت اور حق تلفی کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا جو تاحال جاری ھے۔ اس ظالمانہ و جابرانہ سسٹم کے ذریعے ایک جانب نااہلیت، نا قابلیت، ناکارہ پن اور کُند ذہنوں کو پڑوان چڑھایا جس سے عدم استحکام، عدم مساوات، عدم تحفظ، عدم اخلاق، عدم انسانیت، عدم برداشت، عدم بھائی چارگی اور تنزلی، بیروزگاری، مہنگائی جیسے حالات پیدا ھوئے کیونکہ جب اللہ و رسول ﷺ کی مخالفت میں چلا جائیگا تو ایک جانب مکمل ایمان سے خالی تو دوسری جانب سوائے بربادی، تباہی، رسوائی، ذلت اُنکا مقدر بنادیا جاتا ھے اور انہیں دنیاپرستی یعنی ”رہن“ جیسے دجالی مرض میں مبتلا کردیا جاتا ھے ۔۔ معزز قارئین!! قرآن المجید والفرقان الحکیم میں حق تلفی (کسی کا جائز حق دبانے یا چھیننے) کو سخت ترین گناہوں اور ظلم قرار دیا گیا ہے۔ مالی حقوق (جیسے وراثت اور مزدور کی اجرت) کی ادائیگی نہ کرنے کو "ظلم” اور کبیرہ گناہ مانا گیا ہے۔ ناپ تول میں کمی (تطفیف) کی صورت میں حق تلفی پر سورة المطففین میں شدید وعید (تباہی) نازل ہوئی ہے۔ اللہ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اور دیانتداری نہ برتنا بھی حق تلفی ہے۔ ظلم دراصل حق تلفی کو کہتے ہیں۔ ظالم وہ ہے جو کسی کا حق تلف کرے۔ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرتا ہے، وہ درحقیقت تین بڑے بنیادی حقوق تلف کرتا ہے۔ اوّلاً اللہ کا حق، کیونکہ وہ اسکا مستحق ہے کہ اسکی فرماں برداری کی جائے۔ ثانیاً ان تمام چیزوں کے حقوق جن کو اس نے اس نافرمانی کے ارتکاب میں استعمال کیا۔ اسکے اعضائے جسمانی، اس کے قوائے نفس، اسکے ہم معاشرت انسان، وہ فرشتے جو اسکے ارادے کی تکمیل کا انتظام کرتے ہیں، اور وہ اشیاء جو اس کام میں استعمال ہوتی ہیں، ان سب کا اس پر یہ حق تھا کہ وہ صرف انکے مالک ہی کی مرضی کے مطابق ان پر اپنے اختیارات استعمال کرے۔ مگر جب اسکی مرضی کے خلاف اس نے ان پر اختیارات استعمال کیے، تو درحقیقت ان پر ظلم کیا۔ ثَالثًا خود اپنا حق، کیونکہ اس پر اسکی ذات کا یہ حق ہے کہ وہ اسے تباہی سے بچائے، مگر نافرمانی کرکے جب وہ اپنے آپ کو اللّٰہ کی سزا کا مستحق بناتا ہے، تو دراصل اپنی ذات پر ظلم کرتا ہے۔ انہی وجوہ سے قرآن میں جگہ جگہ گناہ کے لیے ظلم اور گناہ گار کے لیے ظالم کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں انسان کی زندگی سے متعلق ہر شعبے کے احکامات تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔ لین دین بھی انسان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے، ہر انسان اپنی زندگی میں حقوق کی ادائیگی اور وصولی کے غیر متناہی سلسلے میں بندھا ہوا ہے۔ اس لحاظ سے یہ انسانی معاشرے کا لازمی جزو ہے۔ حقوق کے لین دین کے معاملے میں معاشرے کا رویہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ دوسروں سے اپنے حقوق وصول کرنے میں انتہائی چُستی اور تیزی دکھاتے ہیں لیکن جب دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی نوبت آتی ہے تو اس میں کمی کوتاہی اور غفلت و سستی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہر شخص کو صرف اپنے حقوق کی فکر ہوتی ہے لیکن اپنے ذمے دوسروں کے حقوق سے وہ غافل ہوتا ہے۔ معاشرے میں بسنے والے لوگوں کے درمیان اختلافات، لڑائی اور جھگڑوں کی ایک بہت بڑی وجہ بھی یہی رویہ ہے۔ چنانچہ لوگ اپنے حقوق وصول کرنے کے لیے آپس میں دست و گریبان نظر آتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں حقوق کی ادائیگی کی انتہائی سختی کے ساتھ تاکید کی گئی ہے، اس سلسلے میں اسلام کی تعلیمات اور ہدایات بہت واضح طور پر کثرت کے ساتھ موجود ہیں۔ اگر معاشرے میں بسنے والا ہر انسان اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسروں کے حقوق ادا کرنے والا بن جائے تو لوگوں کے درمیان حقوق کے حوالے سے یہ کشمکش ہی ختم ہوجائے گی اور انسانی معاشرے میں امن و سکون کی فضا قائم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں مذکورہ سورت کی ابتدائی آیات میں ان لوگوں کے لیے ہلاکت اور بُرے انجام کی خبر دی ہے جو دوسروں سے اپنا حق پوری طرح وصول کرتے ہیں لیکن دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں کمی کوتاہی اور غفلت کرتے ہیں۔ فرمانِ رب ہے، مفہوم: ” کیا ایسے لوگوں کو گمان نہیں ہے کہ یہ لوگ (قیامت کے) اس بڑے دن میں دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، جس دن سب لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے (حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہوں گے۔” یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اپنے حقوق وصول کرتے ہوئے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں کمی کوتاہی کرنے سے اس گناہ کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے، اس لیے اسکو خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے حقوق بھی وصول نہیں کرتا ہے اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں بھی کمی کوتاہی کرتا ہے تو وہ بھی گناہگار ہے اور اس سزا کا مستحق ہے۔ کیوں کہ ہر شخص کو اپنے حقوق حاصل کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، اب اگر وہ اپنے حقوق سے خود ہی دست بردار ہوجاتا ہے تو اسے دوسروں کے حقوق تلف کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی۔ اس لیے انسان کو ہر صورت دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی فکر کرنا ضروری ہے۔ احادیث طیّبہ میں بھی دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی حدیث شریف کا مفہوم ہے: ”جس نے اپنے کسی بھائی کے ساتھ ظلم و زیادتی کی ہو، اس کی آبرو ریزی کی ہو، یا کسی دوسرے معاملے میں حق تلفی کی ہو، اس کو چاہیے کہ آج ہی اس زندگی میں اس سے معاملہ صاف کرالے۔ آخرت کے دن آنے سے پہلے کہ جب اسکے پاس ادا کرنے کے لیے دینار و درہم کچھ بھی نہیں ہوگا، اگر اسکے پاس نیک اعمال ہونگے تو اسکے ظلم کے بہ قدر وہ مظلوم کو دے دیے جائیں گے اور اگر اسکے پاس نیک اعمال نہیں ہونگے تو مظلوم کے کچھ گناہ لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے۔” (صحیح بخاری) ۔۔۔ دوسری حدیث کا مفہوم ہے: ”انسان کے نامۂ اعمال میں گناہوں کی ایک فہرست وہ ہے جنکو اللہ تعالیٰ انصاف کے بغیر نہیں چھوڑے گا اور وہ انسانوں کی آپس کی زیادتیاں اور حق تلفیاں ہیں کہ انکا بدلہ ضرور دلایا جائے گا“(بیہقی) مفسّرین نے قرآن کریم کی ان آیات کی تفسیر میں ایک بہت اہم بات یہ بھی ذکر کی ہے کہ حقوق کی دو قسمیں ہیں۔ حقوق اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے حقوق جیسے نماز، روزہ اور زکوۃ وغیرہ اور دوسرا حقوق العباد: یعنی بندوں کے حقوق جو آپس میں ایک دوسرے کے ذمے ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں مذکور ”تطفیف” کا یہ گناہ حقوق کی ان دونوں قسموں میں شامل ہے۔ چنانچہ انسان جس طرح حقوق العباد کی ادائیگی میں کمی کوتاہی کرنے سے اس گناہ کا مرتکب ہوکر سزا کا مستحق ہوتا ہے اسی طرح حقوق اللہ کی ادائیگی میں کمی کوتاہی کرنے والا بھی اس گناہ کا مرتکب اور سزا کا مستحق ہوگا۔ حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز کے رکوع سجود پوری طرح ادا نہیں کررہا تھا اور عجلت میں جلدی نماز ختم کررہا تھا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تُو نے اللہ کے حق میں تطفیف کردی ہے۔ اس سے مراد یہ کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی صحیح طرح اور مکمل ادائیگی انتہائی ضروری ہے۔ انکی ادائیگی میں کمی کوتاہی کرنا، غفلت اور بے پروائی کرنا اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا باعث ہے ۔۔۔۔ الحمدللہ 18 ویں ترمیم کے بعد سندھ اسمبلی و سندھ حکومت آزاد خودمختار ھے سندھ بھر میں کوٹہ سسٹم کے خاتمہ کیلئے پی پی پی سمیت دیگر تمام سیاسی و دینی جماعتوں کو بل فی الفور پیش کرکے ختم کرنا چاہئے پھر یہی کوٹہ سسٹم کا بل وفاق میں بھی پیش کرکے اس مخالف شریعت مخالف دین مخالف قرآن اوت مخالف اللہ و رسول ﷺ کے فرمان کو ختم کرنا صرف ایم کیو ایم کی ذمہداری نہیں بلکہ ہر مسلمان و غیر مسلم منتخب ممبران پالیمینٹ کی ذمہداری ھے اگر اب بھی آبکھیں نہ کھولیں اور کوٹہ سسٹم قائم رکھا تو سندھی قوم بھی جس جس میں ایمان ھے وہ اٹھ کھڑا ہوگا ان شاءاللہ ۔۔۔۔!!
