امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ سے گفتگو اور وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت ایران کے لیے ایک امتحان تھی جس میں وہ ناکام رہا، اس لیے اب امریکا پیر کی رات اور منگل کو ایران کے وسطی علاقے کوہ کولانگ گاز لا سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج تیزی سے ایران کی عسکری صلاحیتوں اور آبنائے ہرمز میں ایرانی موجودگی کو تباہ کر رہی ہے اور اب تک ایران کی پہلی اور دوسری سطح کی قیادت کو ختم کیا جا چکا ہے۔

ان اقدامات کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس راستے کا محافظ بن گیا ہے اور یہاں سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ناکہ بندی صرف ایرانی جہازوں کے لیے ہے، جبکہ دیگر ممالک کو تحفظ کے بدلے اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ان کے درمیان گہری ہم آہنگی موجود ہے، اگرچہ بعض اوقات پالیسی معاملات پر اختلافات بھی سامنے آتے ہیں۔

Exit mobile version