✍️ فیصل جنجوعہ
تعلیم کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، مگر ہمارا تعلیمی نظام آج بھی بڑی حد تک روایتی امتحان، رٹے اور نصاب کی تکمیل کے گرد گھوم رہا ہے۔ ہمارے بیشتر اسکولوں میں کامیاب تدریس کا معیار یہ سمجھا جاتا ہے کہ استاد نے پورا کورس مکمل کروا دیا، طلبہ نے نوٹس یاد کر لیے اور امتحان میں اچھے نمبر حاصل کر لیے۔ لیکن کیا یہی تعلیم ہے؟
ملائشیا سمیت دنیا کے کئی ترقی یافتہ تعلیمی نظام اس تصور سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ وہاں استاد محض معلومات دینے والا نہیں بلکہ رہنما (Facilitator) ہوتا ہے۔ وہ طالب علم کو جواب نہیں دیتا بلکہ سوال کرنا سکھاتا ہے۔ وہ کتاب تک محدود نہیں رکھتا بلکہ مختلف ذرائع سے علم حاصل کرنے، تحقیق کرنے، تنقیدی سوچ اپنانے اور خود سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ آج معلومات کی کمی نہیں، بلکہ معلومات کے درست استعمال کی کمی ہے۔ مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ، آن لائن کورسز، ڈیجیٹل لائبریریاں اور سائنسی پلیٹ فارم ہر طالب علم کی دسترس میں آ رہے ہیں۔ ایسے دور میں وہ طالب علم زیادہ کامیاب ہوگا جو صرف معلومات یاد نہیں کرے گا بلکہ یہ جانتا ہوگا کہ نئی معلومات کہاں سے حاصل کرنی ہیں، ان کی سچائی کیسے جانچنی ہے اور انہیں عملی زندگی میں کیسے استعمال کرنا ہے۔ اگر کسی بچے کو فلکیات سے دلچسپی ہے تو اسے صرف نصابی باب پڑھا کر خاموش نہ کر دیا جائے۔ اسے کتابوں، دستاویزی فلموں، سائنسی ویب سائٹس، مشاہداتی سرگرمیوں اور چھوٹے تحقیقی منصوبوں کی طرف بھی رہنمائی دی جائے۔ اگر کسی طالب علم کو کاروبار میں دلچسپی ہے تو اسے صرف تعریفیں یاد نہ کروائی جائیں بلکہ چھوٹے کاروباری منصوبے، مارکیٹنگ کی بنیادی سمجھ، کامیاب کاروباری شخصیات کے تجربات اور عملی سرگرمیوں سے روشناس کرایا جائے۔ اسی طرح آرٹ، ٹیکنالوجی، زراعت، ماحولیات اور دیگر شعبوں میں بھی بچوں کی فطری دلچسپیوں کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں آج بھی اکثر کامیابی کا معیار صرف امتحانی نتائج ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اچھے نمبرز حاصل کرنے والا ہر طالب علم زندگی کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟ کیا وہ تحقیق کر سکتا ہے؟ کیا وہ نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکتا ہے؟ کیا وہ اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد بھی سیکھنے کا سفر جاری رکھ سکتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
پاکستان کے اسکولوں کو اب خود سے ایک بنیادی سوال پوچھنا چاہیے: کیا ہمارے طلبہ صرف وہی جانتے ہیں جو استاد نے پڑھایا، یا وہ خود بھی علم تلاش کرنا، اس پر سوال اٹھانا اور نئی چیزیں سیکھنا جانتے ہیں؟ اکیسویں صدی میں تعلیم کا مقصد صرف ڈگری دلوانا نہیں بلکہ ایسے شہری تیار کرنا ہے جو تجسس رکھتے ہوں، تنقیدی سوچ رکھتے ہوں، نئی مہارتیں سیکھ سکیں اور بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر سکیں۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو مستقبل کے روزگار، تحقیق اور معاشرتی ترقی کی بنیاد بنے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی کلاس روم کی سوچ بدلیں۔ استاد کو صرف لیکچر دینے والا نہیں بلکہ سیکھنے کا رہنما بنایا جائے، اور طالب علم کو صرف سننے والا نہیں بلکہ تلاش کرنے والا، سوال کرنے والا اور تحقیق کرنے والا بنایا جائے۔ جس دن ہمارے اسکول بچوں کو صرف "کیا سوچنا ہے” نہیں بلکہ "کیسے سیکھنا ہے” سکھانے لگیں گے، اسی دن ہماری تعلیم امتحان سے نکل کر زندگی کی تعلیم بن جائے گی۔ یہی جدید تعلیم کا اصل مقصد ہے، اور یہی مستقبل کی کامیابی کی کنجی بھی۔
