تحریر: سعد محمد مدنی (فاضل، اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ)
تاریخِ انسانیت میں بہت سے حکمران گزرے ہیں جنہوں نے وسیع سلطنتوں پر حکومت کی، عظیم الشان محلات تعمیر کیے، فوجوں کی قیادت کی اور اپنے نام کے سکے جاری کیے، لیکن ایسے حکمران بہت کم پیدا ہوئے جن کی عظمت کا راز ان کے تخت و تاج میں نہیں بلکہ ان کے کردار، عدل، تقویٰ اور احساسِ ذمہ داری میں پوشیدہ ہو۔ اسلامی تاریخ کا جب بھی بابِ عدل کھولا جائے تو ایک ہی نام سب سے زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے، اور وہ ہے امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔
وہ حکمران جس کے خوف سے ظالم کانپتے تھے، مگر یتیم اس کے دروازے پر خود کو محفوظ سمجھتا تھا۔ وہ خلیفہ جس کے دور میں سلطنت ہزاروں میل تک پھیل گئی، مگر جس کی راتیں محلوں میں نہیں بلکہ گلیوں، بازاروں اور ویران راستوں پر اپنی رعایا کے حالات جاننے میں گزرتی تھیں۔ وہ فرمانروا جس کی ہیبت سے قیصر و کسریٰ لرزتے تھے، مگر جس کے دل میں ایک بھوکے بچے کی آہ طوفان برپا کر دیتی تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی اس حقیقت کی عملی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ایمان کی دولت عطا کرتا ہے تو اس کے دل کو نورِ ہدایت سے بھر دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید اہلِ ایمان کے بارے میں فرماتا ہے:
“اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا، اسے تمہارے دلوں میں مزین کر دیا اور کفر، نافرمانی اور گناہ کو تمہارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا۔ یہی لوگ راہِ راست پر ہیں۔”
(سورۃ الحجرات: 7)
یہ آیت اگرچہ تمام اہلِ ایمان کے لیے ہے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی اس کی روشن ترین عملی مثال نظر آتی ہے۔ قبولِ اسلام سے پہلے وہ قریش کے طاقتور اور بااثر افراد میں شمار ہوتے تھے، مگر جب اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو ایمان سے منور کیا تو وہی عمر، اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان، مال، عزت اور اقتدار سب کچھ قربان کرنے والے بن گئے۔
قبولِ اسلام: تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ اسلام کو ان دو بااثر افراد میں سے جس کے ذریعے بہتر ہو، اس کے ذریعے عزت عطا فرمائے: ابو جہل یا عمر بن خطاب۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول فرمائی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے ہدایت کا دروازہ کھول دیا۔
(جامع ترمذی)
ان کے قبولِ اسلام کا واقعہ صرف ایک فرد کے مسلمان ہونے کا واقعہ نہیں تھا بلکہ اسلام کی اجتماعی قوت کا اعلان تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
“حضرت عمر کا اسلام فتح تھا، ان کی ہجرت نصرت تھی اور ان کی خلافت اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی۔”
(صحیح بخاری)
حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں نے پہلی مرتبہ بیت اللہ میں کھل کر نماز ادا کی۔ جو اہلِ ایمان اس سے پہلے چھپ کر عبادت کرنے پر مجبور تھے، اب انہیں ایک مضبوط سہارا میسر آ چکا تھا۔
وہ بصیرت جس کی تائید آسمان سے ہوئی
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا ایک حیرت انگیز پہلو ان کی غیر معمولی دینی بصیرت تھی۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں خود حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ تین مواقع ایسے آئے جب ان کی رائے کے مطابق قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں۔
انہوں نے عرض کیا کہ مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بنایا جائے، تو اللہ تعالیٰ نے یہی حکم نازل فرمایا۔ انہوں نے ازواجِ مطہرات کے لیے پردے کی ضرورت بیان کی، تو اس بارے میں وحی نازل ہوئی۔ پھر ایک موقع پر ازواجِ مطہرات کو تنبیہ کے حوالے سے ان کی رائے کی بھی قرآن نے تائید فرمائی۔ یہ کوئی معمولی اعزاز نہیں بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کو غیر معمولی فہم، اخلاص اور حق شناسی عطا فرمائی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
“تم سے پہلے امتوں میں ایسے لوگ ہوتے تھے جن کے دل میں اللہ تعالیٰ صحیح بات ڈال دیتا تھا، اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر ہیں۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ وہی فراست تھی جس نے ایک عام انسان کو تاریخ کا عظیم ترین منصف بنا دیا، اور یہی وہ بصیرت تھی جس کی روشنی میں حضرت عمرؓ نے ایک ایسی ریاست قائم کی جس کی مثال آج بھی دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے۔
