کالم نگار:محمد شہزاد بھٹی
شہرِ وفا بہاولنگر میں واسا کا قیام محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ کرپشن اور بدانتظامی کا ایک ایسا عفریت ثابت ہوا ہے جس نے شہر کی تباہ حال بنیادی سہولیات کو سنوارنے کے بجائے عوام کی جیبوں پر شب خون مارنے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے۔ اس ادارے سے جس جدید سیوریج اور واٹر سپلائی کی امیدیں عوام نے وابستہ تھیں، آج وہ عوام کے لیے آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا کی عملی تصویر بن چکی ہے اور یہ وہی شہر ہے جس نے ترقی کے خواب دیکھے تھے مگر آج واسا کی اوور بلنگ اور ناقص کارکردگی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، جس کی گونج آج ہر گلی کوچے میں سنائی دے رہی ہے۔حکومتِ پنجاب کے باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق واسا کو 3 مرلہ تک پلاٹ کے لیے 718 روپے، 3 سے 5 مرلہ کے لیے 938 روپے، 5 سے 7 مرلہ کے لیے 1,500 روپے، 7 سے 10 مرلہ کے لیے 2,000 روپے، 10 سے 15 مرلہ کے لیے 2,500 روپے، 15 سے 20 مرلہ کے لیے 4,000 روپے، 20 سے 40 مرلہ کے لیے 5,000 روپے اور 40 مرلہ سے زائد پر 6,000 روپے ماہانہ فیس وصول کرنے کا اختیار دیا گیا ہے مگر واسا ان سرکاری نرخوں کی شفافیت کے بجائے من مانے بھاری بل بھیج رہا ہے۔ واسا کی کارکردگی کا حال یہ ہے کہ جہاں واٹر سپلائی کی سہولت ہی موجود نہیں، وہاں بھی واسا کا عملہ عوام کے دروازوں پر بلوں کا شاہین میزائل داغنے میں مصروف ہے۔حد تو یہ ہے کہ اب بعض گھروں میں محبت کی نشانی کے طور پر ایک کی بجائے دو دو بل جاری کئیے گئے ہیں؛ یہ کون سا اصول ہے اور کس ضابطے کا راگ الاپا جا رہا ہے؟ مزید ستم ظریفی یہ کہ واسا نے ایک عجیب و غریب تکنیکی فلسفہ ایجاد کر رکھا ہے کہ جن گلیوں میں باقاعدہ سیوریج لائنیں موجود ہی نہیں، وہاں کی ٹوٹی پھوٹی نالیوں کو ہی واسا نے سیوریج تصور کر لیا ہے، بھلا یہ کون سا منطقی اصول ہے؟ سوال یہ ہے کہ جن علاقوں میں واسا کی بنیادی سہولیات کا دور دور تک کوئی نام و نشان ہی نہیں تو یہ بل کس بات کا بھیجا جا رہا ہے؟ ایسا لگتا ہے جیسے واسا نے عوام کو سہولیات دینے کا معاہدہ نہیں، بلکہ ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا لائسنس لے رکھا ہے۔ یہ کیسا ظلمِ ظریفانہ ہے کہ جب نالیاں بند ہو کر ابل پڑتی ہیں اور ان کا گندا پانی گلیوں میں پھیل کر جوہڑ کا منظر پیش کرنے لگتا ہے تو واسا سے رابطہ کرنے پر جواب ملتا ہے کہ ہماری ذمہ داری تو صرف سیوریج ہے، نالیوں کی صفائی ستھرا پنجاب یا بلدیہ کا کام ہے’؛ مگر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جب بل لینے کی باری آتی ہے تو یہی نالیاں واسا کا دائرہ کار نجانے کیسے بن جاتی ہیں؟ اگر ان نالیوں کی صفائی واسا کی ذمہ داری نہیں ہے تو پھر ان کا بل وصول کرنا کس اخلاقی یا قانونی اصول کے تحت ان کا حق ہے؟ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ ستھرا پنجاب کے بلوں کی وصولی اور ای چالان کا سلسلہ بھی بہت جلد شروع کیا جا رہا ہے؛ اب عوام بیچاری جائے تو کہاں جائے؟ لگتا ہے حکومت نے غربت ختم کرنے کا ایک انتہائی ظالمانہ فارمولا ڈھونڈ لیا ہے کہ اب غریب کو سہولیات دینے کے بجائے کیوں نہ ایسے حالات پیدا کر دیے جائیں کہ غریب کو ہی ختم کر دیا جائے تاکہ نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔ چھ ماہ کے اکٹھے بلوں کا ایٹم بم گرا کر نجانے عوام کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے، جس نے شہر کے مکینوں کو شدید ذہنی کوفت اور کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اہل بہاولنگر کا اربابِ اختیار سے دو ٹوک مطالبہ ہے کہ واسا کے بھیجے گئے تمام بلوں کا فوری طور پر ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، جہاں سیوریج یا واٹر سپلائی کی سہولت موجود نہیں وہاں کے تمام بل فی الفور معاف کیے جائیں اور عوام پر ڈالے گئے اس غیر منصفانہ بوجھ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ خدا کرے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ان اربابِ اختیار کے ضمیر پر پڑی یہ دھول چھٹ جائے، یہ شہرِ وفا مزید تباہی کی نذر ہونے سے بچ جائے اور عوام کو اس استحصالی نظام کی چکی سے نجات ملے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ واسا کے بلوں کی بجائے ان کی کارکردگی کا احتساب کیا جائے۔ آمین
