پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے بائیکاٹ کے معاملے پر تاحال کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکی ہے، جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر شدید اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ سات روز کے اندر نظرثانی اجلاس بلانے سے مشروط کیا تھا، تاہم 9 جولائی کو یہ مدت پوری ہونے کے باوجود تاحال کوئی اجلاس نہیں بلایا جا سکا۔ اس سے قبل آزاد کشمیر گورننگ باڈی نے کثرت رائے سے انتخابات میں حصہ لینے کی سفارش کی تھی، لیکن اس کے برعکس سیاسی کمیٹی نے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا جس نے پارٹی صفوں میں ابہام پیدا کر دیا ہے۔
اس تنظیمی تعطل اور فیصلے میں تاخیر کے باعث پی ٹی آئی کو آزاد کشمیر میں بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے، جہاں اب تک پارٹی کے 5 ٹکٹ ہولڈرز اور کئی امیدوار جماعت چھوڑ چکے ہیں۔ دوسری جانب وفاق میں اپوزیشن کی قیادت نے بھی تحریک انصاف کو الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ جلد بازی میں نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم، صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر قیوم نیازی اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ خطے کی موجودہ صورتحال کسی بھی طور غیر جانبدارانہ اور پُرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے موزوں نہیں ہے۔
