آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان برسوں پرانا تعطل ختم: نئی دہلی کو یورینیم فروخت کرنے کا بڑا فیصلہ

آسٹریلیا نے بھارت کو یورینیم فروخت کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اس حساس معاملے پر کئی برسوں سے جاری تعطل بالآخر ختم ہو گیا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے میلبورن میں ملاقات کے بعد یورینیم کی برآمدات سے متعلق انتظامی معاہدے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اگرچہ دونوں رہنماؤں نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ آسٹریلیا بھارت کو کتنی مقدار میں یورینیم فراہم کرے گا اور ان برآمدات کا آغاز کب سے ہوگا، تاہم یہ پیشرفت نئی دہلی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ بھارت سال 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی پیدا کرنے کا بڑا ہدف رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کے پاس دنیا میں یورینیم کے سب سے بڑے معلوم ذخائر موجود ہیں، لیکن وہ خود نہ تو جوہری توانائی استعمال کرتا ہے اور نہ ہی جوہری ہتھیار رکھتا ہے، بلکہ اپنے تمام ذخائر برآمد کرتا ہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے بھارت کو یورینیم کی فراہمی کا عمل 2014 میں ہونے والے ایک معاہدے کے باوجود اس خدشے کے تحت رک گیا تھا کہ یہ مواد جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ چونکہ بھارت جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا دستخط کنندہ نہیں ہے اور آسٹریلیا روایتی طور پر ایسے ممالک کو یورینیم بیچنے سے انکاری رہا ہے، اس لیے موجودہ انتظامی معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی و تجارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

Exit mobile version