اچھا استاد یا مضبوط نظام؟ — کامیابی کا اصل راز کیا ہے؟

از قلم : فیصل جنجوعہ

جب نظام کمزور ہو تو استاد بھی بے بس ہو جاتا ہے تعلیم کے شعبے میں ایک بحث ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ پرنسپل کی شکایت ہوتی ہے کہ اساتذہ محنت نہیں کرتے، کلاس روم میں دلچسپی نہیں لیتے اور ادارے کے وژن کے مطابق کام نہیں کرتے۔ دوسری طرف اساتذہ کا مؤقف ہوتا ہے کہ ادارے میں کوئی واضح نظام، پالیسی، منصوبہ بندی یا میرٹ نہیں، اس لیے ان کی محنت کی نہ تو قدر کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے نتائج سامنے آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں قصوروار کون ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم صرف ایک استاد یا ایک پرنسپل کے سہارے نہیں چلتی بلکہ ایک مضبوط نظام پر قائم ہوتی ہے۔ دنیا کے کامیاب تعلیمی اداروں میں افراد سے زیادہ نظام مضبوط ہوتا ہے۔ وہاں اصول شخصیات سے بڑے ہوتے ہیں، ذمہ داریاں واضح ہوتی ہیں، احتساب سب کے لیے یکساں ہوتا ہے اور کامیابی انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہوتی ہے۔اگر ایک استاد بہترین تدریسی صلاحیت رکھتا ہو، اپنی کلاس کی مکمل تیاری کرے، جدید تدریسی طریقے اپنائے اور بچوں کی فکری تربیت میں مخلص ہو، لیکن ادارے میں روزانہ پالیسیاں بدلتی رہیں، وقت کی پابندی صرف چند لوگوں کے لیے ہو، فیصلے پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہوں، محنت اور غفلت میں کوئی فرق نہ رکھا جائے، تو رفتہ رفتہ اس استاد کا جذبہ بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔ مسلسل بے قدری کسی بھی پیشہ ور انسان کی کارکردگی کو کمزور کر دیتی ہے۔اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ناکامی کا الزام نظام پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ ایک مخلص استاد کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی اپنے طلبہ کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو ادارے کی کمزوریوں کا بہانہ نہیں بناتا، کیونکہ اس کی پہلی ذمہ داری طالب علم کے مستقبل سے ہوتی ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے تعلیمی اداروں میں لیڈرشپ اور مینجمنٹ کو ایک ہی چیز سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ دونوں میں واضح فرق ہے۔ پرنسپل صرف نظم و ضبط قائم کرنے والا منتظم نہیں بلکہ ایک تعلیمی رہنما بھی ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف غلطیاں پکڑنا نہیں بلکہ اساتذہ کی رہنمائی کرنا، ان کی تربیت کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں ہر استاد اپنی بہترین صلاحیت کے ساتھ کام کر سکے۔اچھا نظام وہ نہیں جس میں ہر وقت خوف ہو، بلکہ وہ ہے جہاں اعتماد کے ساتھ احتساب بھی ہو، نظم کے ساتھ احترام بھی ہو اور کارکردگی کے ساتھ حوصلہ افزائی بھی ہو۔ ایسے ماحول میں اساتذہ خود کو ادارے کا ملازم نہیں بلکہ اس کے مشن کا حصہ سمجھتے ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں الزام تراشی کے بجائے خود احتسابی کی ثقافت کو فروغ دیا جائے۔ پرنسپل خود سے پوچھیں کہ کیا انہوں نے ایسا نظام بنایا ہے جس میں ایک اچھا استاد اپنی صلاحیتیں نکھار سکے؟ اور اساتذہ خود سے پوچھیں کہ کیا وہ ہر حال میں اپنے طلبہ کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟
یاد رکھنا چاہیے کہ کمزور نظام اچھے اساتذہ کو بھی اوسط بنا دیتا ہے، جبکہ مضبوط نظام عام اساتذہ کو بھی غیر معمولی کارکردگی دکھانے کے قابل بنا دیتا ہے۔ تعلیمی ادارے افراد کی طاقت سے نہیں بلکہ اصولوں، نظم، اعتماد اور مسلسل بہتری کے نظام سے ترقی کرتے ہیں۔

جس دن پرنسپل اور اساتذہ ایک دوسرے کو مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کی طاقت سمجھنا شروع کر دیں گے، اسی دن اسکول کی حقیقی ترقی کا سفر شروع ہوگا۔

Exit mobile version