کرپشن کیسز بند ہونے سے بچانے کے لیے نیب کا انوکھا فارمولا، مہنگائی کے تناسب سے غبن کی رقم بڑھانے کی تجویز

قومی احتساب بیورو (نیب) قانون کی ایک ایسی منفرد تشریح پر غور کر رہا ہے جس کا مقصد مالیاتی حد (فنانشل تھریش ہولڈ) بڑھنے کی وجہ سے بدعنوانی کے متعدد کیسز کو بند ہونے سے بچانا ہے۔ باخبر ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ اس سلسلے میں ایک اہم تجویز جلد ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ (ای بی ایم) میں پالیسی فیصلے کے لیے پیش کی جائے گی، جس کے تحت اگر کوئی ملزم یہ مؤقف اپنائے گا کہ ترمیم شدہ قانون کے باعث مبینہ کرپشن کی رقم نئی مالیاتی حد سے کم ہونے کی وجہ سے نیب کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو گئی ہے، تو دوسری جانب خوردبرد کی گئی رقم کی موجودہ مالیت کو بھی مہنگائی کے فارمولے کے مطابق دوبارہ متعین کیا جائے گا۔ اس تشریح سے مبینہ مالی نقصان کی موجودہ قدر نمایاں طور پر بڑھ جائے گی اور متعلقہ مقدمہ دوبارہ نیب کے دائرۂ اختیار میں واپس آ سکے گا، کیونکہ نیب آرڈیننس میں آخری ترمیم کے تحت 500 ملین روپے کی کم از کم مالیاتی حد کو یکم جولائی 2022 سے محکمہ شماریات کے مہنگائی کے اشاریوں سے منسلک کیا گیا تھا، جو مجموعی مہنگائی کے باعث اب بڑھ کر 800 ملین روپے تک جا پہنچی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس نئی تجویز کا بنیادی مقصد کسی نئی قانون سازی کے بجائے اسی قانونی شق کی نئی تشریح کے ذریعے اس اصول کو لاگو کرنا ہے کہ مہنگائی کے قانون میں ترمیم کا فائدہ صرف ملزم کو نہ ملے، بلکہ متاثرہ فریق، سرکاری ادارے یا قومی خزانے کو ہونے والے حقیقی نقصان کی موجودہ قدر کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ اگر نیب کی اعلیٰ قیادت نے اس تجویز کی منظوری دے دی تو ترمیم شدہ مالیاتی حد کی وجہ سے بند یا واپس ہونے والے کرپشن کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم، ماہرینِ قانون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر اس اچھوتے فارمولے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تو اس کا سخت عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے، کیونکہ بالآخر عدالتیں ہی یہ حتمی فیصلہ کریں گی کہ آیا مہنگائی کے اس اشاریے کا اطلاق صرف نیب کی اپنی مالیاتی حد پر ہونا چاہیے یا بدعنوانی کے مقدمات میں غبن کی گئی رقم کی مالیت پر بھی اس کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔

Exit mobile version