ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے استنبول میں ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ترک صدر نے پاکستانی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے عالمی امن کے لیے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے امن و ترقی کے لیے پاکستان کے اقدامات کو سراہا، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور خصوصی اقتصادی زونز میں تعاون بڑھانے کے لیے متعلقہ وزارتوں کو قریبی روابط برقرار رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ اسی دوران صدر اردوان نے اسرائیل پر امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے علاقائی سلامتی خطرے میں ڈالنے سے باز رہنے کی سخت تنبیہ بھی کی۔
دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف نے شاندار میزبانی پر ترک صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیے کے عوام کے درمیان گہرا قلبی تعلق ہے اور جنگ ہو یا قدرتی آفات، ترکیے نے ہمیشہ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے سیلاب اور زلزلہ زدہ علاقوں میں ترکیے کی امداد کو تاریخی قرار دیا اور بتایا کہ بی ٹو بی فورم میں ترک کاروباری شخصیات کے ساتھ انتہائی تعمیری نشست ہوئی ہے جس میں دوطرفہ تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچانے کا عزم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے قبرص کے مسئلے پر ترکیے کے مؤقف کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور مسئلہ کشمیر پر ترکیے کے دوٹوک اور اصولی مؤقف اختیار کرنے پر صدر رجب طیب اردوان کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔
