✍️ فیصل جنجوعہ
تعلیم کسی بھی مہذب معاشرے کی ترقی کا بنیادی ستون ہے، جبکہ نصاب اس ستون کی مضبوطی کا ضامن ہوتا ہے۔ اگر نصاب کمزور، غیر مربوط یا طلبہ کی ذہنی استعداد سے مطابقت نہ رکھتا ہو تو اس کے اثرات صرف امتحانی نتائج تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری نسل کی فکری نشوونما متاثر ہوتی ہے۔
پنجاب میں ایک وقت تھا جب نصابی کتابیں ماہرینِ تعلیم، تجربہ کار اساتذہ اور ماہرینِ نفسیات کی مشاورت سے تیار کی جاتی تھیں۔ ہر سبق کے انتخاب میں اس بات کا خیال رکھا جاتا تھا کہ طالب علم کی عمر، ذہنی سطح، زبان فہمی اور سیکھنے کی صلاحیت کیا ہے۔ نصاب میں تدریج، تسلسل اور توازن نمایاں ہوتا تھا، جس سے طلبہ بنیادی تصورات کو مضبوط انداز میں سیکھتے تھے۔ آج صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ متعدد اساتذہ اور والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ نصاب میں بار بار تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، بعض موضوعات غیر مربوط محسوس ہوتے ہیں، اور کئی اسباق بچوں کی عمر اور فہم سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسے خدشات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نصاب سازی کے عمل میں زمینی حقائق، تدریسی تجربات اور طلبہ کی ضروریات کو مسلسل جانچنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم میں اصلاحات یقیناً ناگزیر ہیں، لیکن اصلاح اور تجربے میں فرق ہوتا ہے۔ کسی بھی نصاب کو کامیاب بنانے کے لیے تحقیق، آزمائشی نفاذ، اساتذہ کی تربیت اور مسلسل جائزہ بنیادی تقاضے ہیں۔ اگر یہ عناصر کمزور ہوں تو نصاب کا اصل مقصد، یعنی مؤثر تعلیم، متاثر ہو سکتا ہے۔
آج ہمارے تعلیمی نظام کو ایسے نصاب کی ضرورت ہے جو بچوں میں رٹا لگانے کے بجائے تجزیاتی سوچ، تخلیقی صلاحیت، کردار سازی اور عملی زندگی کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ نصاب ایسا ہونا چاہیے جو طالب علم پر بوجھ نہ بنے بلکہ اس کے اندر علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کرے۔ حکومت، نصاب ساز اداروں اور ماہرینِ تعلیم کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اساتذہ، والدین اور تعلیمی ماہرین کی آراء کو سنیں، نصاب کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں اصلاحات کریں۔ قوموں کا مستقبل نصابی کتابوں سے تشکیل پاتا ہے، اس لیے نصاب سازی کو محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ قومی امانت سمجھا جانا چاہیے۔ ایک مضبوط نصاب ہی مضبوط نسل کی بنیاد رکھتا ہے، اور مضبوط نسل ہی ایک مضبوط پاکستان کی ضمانت بنتی ہے۔





