کھاریاں (قاری نصیر احمد کلیار) کھاریاں شہر اور اس کے گردونواح میں بجلی کی بدترین غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور سوئی گیس کی طویل بندش نے شہریوں کی زندگی کو شدید عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق علاقے میں صرف آدھے گھنٹے بجلی دینے کے بعد دو دو گھنٹے کی طویل بندش اب روز کا معمول بن چکی ہے، جس کی وجہ سے اس سخت گرمی کے موسم میں معصوم بچے، بزرگ اور بیمار افراد سخت اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس مسلسل لوڈشیڈنگ کے باعث جہاں ایک طرف روزمرہ کے گھریلو معمولات اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں، وہیں دوسری طرف بجلی نہ ہونے سے پانی کی فراہمی کا نظام بھی شدید متاثر ہو رہا ہے اور عوام پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔
بجلی کے اس بحران کے ساتھ ساتھ کھاریاں میں سوئی گیس کی غیر متوقع بندش نے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے عوام کی پریشانیوں کو دگنا کر دیا ہے، اور شہریوں کا کہنا ہے کہ کڑکتی گرمیوں کے مہینوں میں بھی گیس غائب ہونا سمجھ سے باہر ہے۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے گھریلو خواتین کو وقت پر کھانا پکانے میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب ہوٹلوں اور تندوروں سمیت دیگر کاروباری مراکز کے مسائل بھی حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ کھاریاں کے اہل علاقہ نے حکومتِ پاکستان، واپڈا حکام اور سوئی گیس کے متعلقہ اعلیٰ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور گیس کی بندش کا فوری نوٹس لے کر بنیادی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو اس ذہنی و جسمانی اذیت سے نجات مل سکے۔





