وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیغامِ امن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرگودھا میں 7 سالہ بچی کی بے حرمتی کے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور اسے ایک انتہائی دل خراش واقعہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کا تحفظ جہاں حکومت کی اولین ذمے داری ہے، وہیں والدین کو بھی چاہیے کہ وہ چھوٹے بچوں کو باہر اکیلا نہ بھیجیں۔ وزیراعلیٰ نے معاشرے میں مردوں اور بیٹوں کی تربیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کی کیسی تربیت کر رہے ہیں، کیونکہ حکومت کی ہر گھر تک رسائی ممکن نہیں اور ایسے سماجی مسائل کا خاتمہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمے داری ہے۔
اپنے خطاب کے دوران مریم نواز نے انتظامی اور سماجی چیلنجز کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی کوئی بچہ کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہوتا ہے تو وہ اسے اپنی ذاتی ذمے داری سمجھتی ہیں اور اس غم کی وجہ سے وہ کئی راتوں تک سو نہیں پاتیں، تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ انتظامیہ جب گٹر کا ڈھکن لگاتی ہے تو کوئی اسے چوری کر لیتا ہے۔ انہوں نے ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے علما کرام کے کردار کو کلیدی قرار دیا، جبکہ معرکۂ حق اور ایران و امریکہ کے درمیان مفاہمت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم کی سفارتی اور تزویراتی کوششوں کی بھرپور تعریف بھی کی۔



