امریکا اور مشرق وسطیٰ کے 12 اہم ممالک نے عالمی تجارت کے لیے انتہائی حساس سمجھے جانے والے بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ میں بلارکاوٹ تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ بحرین میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی زیر قیادت منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی علاقائی سکیورٹی اجلاس میں کیا گیا، جہاں مشرق وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور باہمی دفاعی تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس اہم سکیورٹی اجلاس میں امریکا، سعودی عرب، قطر اور عمان سمیت خطے کے 12 ممالک کے فوجی سربراہان اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ شرکاء نے مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی کی صورتحال پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں کسی بھی قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی روابط کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس میں بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن کے اعلیٰ فوجی وفود شریک ہوئے، جس سے اس مشترکہ معاہدے کی علاقائی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
اجلاس کے موقع پر امریکی سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اتحادیوں کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ امریکا علاقائی سلامتی، استحکام اور بحری راستوں کے تحفظ کے لیے خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا سب سے جدید، جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اور انتہائی فعال فضائی و میزائل دفاعی نظام چلا رہا ہے، جو خطے کے امن کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
