از قلم: فیصل جنجوعہ
جدید دور میں خوبصورتی کی تعریف بدل چکی ہے۔ آج ظاہری شکل و صورت، مہنگے لباس، فیشن اور سوشل میڈیا کی چمک دمک کو خوبصورتی کا معیار سمجھا جانے لگا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے اخلاق، حیا، کردار اور دوسروں کے احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ظاہری شخصیت کو سنوارنے پر تو لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے، مگر اخلاقی تربیت پر بہت کم توجہ دیتا ہے۔ نتیجتاً تعلیم یافتہ افراد بھی بعض اوقات گفتگو، رویے اور برداشت میں ناکام نظر آتے ہیں۔ اگر حیا، احترام اور حسنِ اخلاق نہ ہو تو ظاہری خوبصورتی اپنی کشش کھو دیتی ہے۔ حیا انسان کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو انسان کو حدود کا احساس دلاتی ہے، نگاہوں کو پاکیزگی عطا کرتی ہے، زبان کو شائستگی بخشتی ہے اور معاشرے میں امن و اعتماد پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح احترام وہ بنیاد ہے جس پر مضبوط خاندان، کامیاب تعلیمی ادارے اور مہذب قومیں تعمیر ہوتی ہیں افسوسناک امر یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات نے نوجوان نسل کو اس دوڑ میں شامل کر دیا ہے جہاں مقبولیت کو کردار پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ شہرت حاصل کرنے کے لیے بعض اوقات ایسے رویے اختیار کیے جاتے ہیں جو معاشرتی اقدار اور اخلاقی حدود سے متصادم ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ عزت انسان کے لباس، دولت یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور اخلاق سے حاصل ہوتی ہے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام ذمہ دار طبقات پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ نئی نسل میں حیا، برداشت، احترام، سچائی اور ذمہ داری کے اوصاف پیدا کریں۔ کیونکہ اگر اخلاقی تربیت مضبوط ہوگی تو معاشرے میں نفرت، بدتمیزی، تشدد اور بے راہ روی خود بخود کم ہونے لگے گی۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظرثانی کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب ڈاکٹر، انجینئر یا کاروباری شخصیت بنانے کی فکر نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں ایک باکردار، باحیا اور بااخلاق انسان بنانا بھی ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ خوبصورتی چہرے کی نہیں بلکہ کردار کی پہچان ہوتی ہے۔ چہرے کی رونق وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہے، مگر حیا، احترام اور اچھے اخلاق انسان کو ہمیشہ قابلِ عزت اور قابلِ تقلید بنائے رکھتے ہیں۔ یہی وہ خوبصورتی ہے جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی کی امید دلاتی ہے۔
